خطبات محمود (جلد 8) — Page 525
525 دونوں خراب ہو کر اس کی اخلاقی اور روحانی حالت تباہ ہو جائے گی۔اور نہ صرف اس کی بلکہ اپنے متعدی اثر کی وجہ سے وہ سوسائٹی کو بھی خراب کر دے گا۔لیکن اگر وہ اپنے دل میں جگہ نہیں دیتا۔اور حیوانی جذبات سے نکل کر وہ روحانی حالت میں چلا گیا ہے۔تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے۔جو تیل مل کر پانی میں غوطہ مارتا ہے۔جب یہ اس میں سے باہر آتا ہے۔تو پانی اس کے جسم پر ٹھر نہیں سکتا۔اور فوراً جسم خشک ہو جاتا ہے۔اس کے دل میں بھی قبض اور بسط کی حالتیں پیدا ہوتی ہیں۔دوسروں کے اثرات بھی پڑتے ہیں۔مگر وہ ان کے برے اثرات سے صاف نکل آتا ہے۔چونکہ یہ سفر ختم ہونے والا ہے۔اس لئے ہم اس گذرے زمانہ میں طبعی قوانین سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔اس لئے میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ان تین حالتوں میں کامل مومنوں کی حالت پیدا کرنے کی کوشش کرو اور کم از کم طبعی حالت پیدا ہو کر نسیانی کیفیت پیدا ہو جاوے یعنی اگر خود کوئی ایسی بات کی ہے۔جو دوسروں پر برا اثر ڈال سکتی ہے۔تو حالت انفعالی پیدا کرو۔اور اس انفعال سے پھر نسیان پیدا کر کے اس کو اپنے دل سے محو کر دو۔اگر ایسا کرو گے تو یہ جذبات حیوانی رنگ پیدا نہ کریں گے۔اور خوشی کا موجب ہوں گے۔میں نے اسی غرض سے تم کو اکٹھا کیا تھا کہ یہ نصیحت کر دی جاوے۔اور جمعہ بھی پڑھ لیا جاوے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس سفر کے نیک نتائج سے ہم کو بہرہ مند کرے اور اس کے برے نتائج سے محفوظ رکھے۔آمین پھر دوسرے خطبہ میں فرمایا جب ہم اس سفر کے لئے چلے تھے۔تو ہمارے احساسات اور تھے۔میرے اور تھے اور تمہارے اور میرے احساسات تو اسی حد تک تھے کہ تبلیغ کے آئندہ نظام کے لئے میرا خود حالات کو دیکھنا ضروری ہے۔اس سے زیادہ کچھ نہ تھے کہ وہاں جاتے ہی لوگ سب کے سب مسلمان ہو جائیں گے یا کیا ہو گا۔بهر حال مختلف احساسات تھے۔کسی کا یہ بھی خیال ہو گا کہ انگلستان میں قدم رکھتے ہی سارا انگلستان مسلمان ہو جائے گا مگر جس خیال اور ارادہ کو لے کر ہم آئے تھے۔ان کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ان حالات کو جو پیش آئے دیکھتے ہوئے میں یہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے بہت بڑا احسان فرمایا ہے۔ہر ملک میں جہاں ہم گئے ہیں جو کامیابیاں ہوئی ہیں۔اور جس طرح پر خدا تعالیٰ نے ہماری تائید کی ہے۔یہ ہمارے وہم و قیاس اور خیال سے بہت ہی بالا تھی۔بلکہ میں کہتا ہوں۔اسے ہمارے قیاس سے نسبت ہی نہیں۔اس لئے وہ ہمارے کام کا نتیجہ نہیں۔بلکہ محض اس کا فضل ہے انسان