خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 524

524 ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے نبیوں اور ماموروں کی صحبت میں یہ نظارے عام طو رپر نظر آتے ہیں۔اور دوسرے لوگوں میں بھی۔ایک شخص سخت غصہ کی حالت میں کسی مجلس میں آجاوے اور اس غصہ کا اظہار اس کے چہرہ اور زبان سے ہو رہا ہو دو چار گالیاں بھی سناوے تھوڑی ہی دیر میں سب کی حالت بدل جائے گی۔اور منغص ہو جائیں گے۔اور اگر وہ خوش ہے اور ہنستا ہوا آتا ہے۔تو اس کے اثر سے باقی بھی خواہ کیسے افسردہ خاطر ہوں۔ہنسنے لگ جائیں گے۔یہ عام مشاہدات ہیں۔جن کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔پھر ایک تیسرا قانون ہے کہ جب ایک جماعت اکٹھی ہو۔اور اس کو مل کو رات دن رہنا پڑے۔تو مختلف حالتیں پیدا ہو کر ایک رنگ ان میں پیدا کرتی رہتی ہیں۔گویا ایسی حالت ہے کہ ایک دوسرے سے باندھ دیا ہے۔کبھی فاعلی اور انفعالی قوتوں کا ظہور ہو رہا ہے۔کبھی قبض اور بسط کے اثرات نمودار ہیں۔رات دن اکٹھے رہتے ہیں۔اور ان حالتوں میں سے یکساں گذرتے ہیں۔گویا ان کو باہم باندھ دیا ہے۔اس مذکورہ تقسیم کے لحاظ سے یہ ۶ قسم کی حالتیں ہو جاتی ہیں۔چونکہ وہ سب اکٹھے رہتے ہیں۔اس لئے یہ بھی قدرتی بات ہے کہ ایسی جگہ باہم اختلاف بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اور بعض اوقات تنازعہ بھی ہو جاتا ہے اور پھر اس سے تنافر اور تحاسد بھی پیدا ہو سکتا ہے۔اس طبعی قانون سے ہم الگ نہیں ہو سکتے۔ہم سب ایک لمبے سفر میں ساتھ رہے ہیں۔اور وہ دن خدا کے فضل سے ختم ہو رہے ہیں۔ایسی حالت میں وہ لوگ جن کو باہم اکٹھا رہنا پڑتا ہے۔ان میں سے بعض میں قبض اور بعض میں بسط کا پیدا ہونا ضروری ہے۔اگر ایک رفیق میں قبض یا بسط ہے۔تو دوسروں کا اس سے متاثر ہونا ضروری ہے۔یہ طبعی قانون ہے نبی نہیں بچ سکتے۔تو اور کی کیا ہستی ہے۔اور پھر اگر اختلاف ہو اور مختلف خیال ہوں۔تو ایک مشرق کو اپنے خیالات کی رو میں جا رہا ہو گا۔تو دوسرا مغرب کو اس سے لازماً اثر پڑ کر اختلاف پیدا ہو گا۔پس اس کے دور کرنے کے لئے لفظوں کی ضرورت نہیں۔بلکہ قلبی خیالات سے ہی اصلاح ہو گی۔جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ فاعلی اور انفعالی قوتیں اپنا کام کرتی ہیں۔اب اگر وہ طبعی نہیں ہیں۔تو حیوانی رنگ میں نقصان رساں ہوں گی۔اور لانسا نتیجہ خطرناک ہو گا اور اس صورت میں یہ خطرہ ہر وقت سامنے ہے کہ طبعی حالت کا حیوانی حالت سے ٹکراؤ ہو جاوے۔اور اس سے پھر یہ نتیجہ پیدا ہو گا کہ وہ ان جھگڑوں کو ہمیشہ اپنے دل میں یاد رکھے۔جس سے اس کا دل اور دماغ