خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 498

498 کوئی چیز ہم کو جنبش نہیں دے سکتی۔میرا یہ مطلب نہیں کہ انفرادی طور پر اجازت دے رہا ہوں۔ہر گز نہیں قوم افراد کا مجموعہ ہوتی ہے اور افراد کے افعال و اعمال آخر قومی اعمال بن جاتے ہیں۔دنیا میں دو قسم کی چیزیں ہیں۔ایک ڈیپ (عمیق) جاتی ہیں۔افراد کے گناہ اس قسم میں داخل ہیں۔ان کا اثر گہرا ہوتا ہے چوری یا ڈاکہ کچھ شک نہیں۔افراد سے تعلق رکھتے ہیں۔مگر وہ اتنے گہرے جاتے ہیں کہ بالآخر قوم کو تباہ کر دیتے ہیں۔مگر قومی گناہ پھیلاؤ میں زیادہ ہوتے ہیں۔ان کا اثر دل پر کم پڑتا ہے۔مگر وہ دریا کے پاٹ کی طرح پھیل جاتے ہیں۔پھر اس نتیجہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (جس کے ذریعے سے کوئی گمراہ ہو اس پر بھی اس کا اثر ہوتا ) ۶ اثر بڑھ جاتا ہے۔جب تک ہمارے طالب اپنے لباس اپنے چہرہ اور اپنے کھانے پینے کی احتیاط سے ثابت نہ کر دیں کہ وہ احمدی ہیں۔اور یہ ان کا قومی کریکٹر ہے۔اس وقت تک کچھ فائدہ نہ ہو گا۔دیکھو ہندوستان میں ہر جگہ احمدی کو شناخت کر لیتے ہیں۔تعلیم یافتہ لوگ اپنے طبقہ کے احمدیوں کو ڈاڑھیاں رکھنے اور نمازوں کی پابندی سے پہچان لیتے ہیں۔دوسرے لوگ بھی احمدیوں کے چال چلن اور طرز عمل سے ان کو جھٹ پہچان لیتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ یہاں بھی یہی بات ہو۔ابھی تک یہاں یہ بات نہیں کہ احمدی ہندوستانیوں یا دوسروں سے ممتاز ہوں۔جب ایسا ہو گا۔خود بخود لوگوں کو نہ صرف توجہ ہو گی۔بلکہ وہ عزت کریں گے۔جب وہ ان کو دیکھیں گے کہ اپنے قومی کریکٹر میں مضبوط ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ وہ اس لباس میں ہم پر پہنتے ہیں میں تو کہتا ہوں کہ اگر اینٹ پتھر بھی ماریں تب بھی ان کو اس پر قائم رہنا چاہیئے۔جب وہ اس پر قائم رہیں گے تو لوگ خود تسلیم کر لیں گے کہ یہ غلام نہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔میں نے ان حالات کو دیکھ کر یہ ارادہ کیا ہے۔کہ ایک سال تک پرا پیگیشن کروں۔اور ایک سال کے بعد اگر کسی کو دیکھوں کہ وہ عمل نہیں کرتا۔تو اس کے متعلق اعلان کر دوں کہ وہ ہماری جماعت سے تعلق نہیں رکھتا۔میں نے کہا ہے کہ حضرت صاحب نے بھی ایسا ارادہ کیا تھا۔جبکہ ایک شخص جس کی ڈاڑھی منڈی ہوئی تھی۔آپ کی بیعت میں داخل ہوا اور کسی کے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا تھا کہ میری ڈاڑھی دیکھ کر رکھ لے گا۔غرض میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ ایک سال تک پرا پیگیشن کروں۔چونکہ بعض شائد کمزور ہوں۔اور عملی قدم اٹھانے کے لئے ابھی تیار نہ ہوں۔میں نے ایک سال کا