خطبات محمود (جلد 8) — Page 488
488 قومی حالات و اثرات ہیں۔انگلستان کی حریت کی روح مذہب نہیں ہے۔کوئی قوم مذہب کو قبول کرتے ہوئے آزاد نہیں ہوتی۔یہ روح اولا " یورپ کے مقابلہ میں آئی اور بعض مذہبی اختلاف پیدا ہو کر اس کی اطاعت سے جدا ہوئے۔اور اس علیحدگی کی روح نے آہستہ آہستہ نشو نما پایا۔اور پھر آزادی کی روح پیدا ہونے لگی۔اور حالات نے دوسری صورت اختیار کی۔مثلاً ایک شخص نے کوئی ایجاد کی کسی ایجاد کو مذہب سے کیا تعلق مگر پادریوں نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ اگر اسے قبول کرو گے۔تو مذہب سے نکل جاؤ گے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس مخالفت اور کشمکش میں مذہب سے دور ہوتے چلے گئے کسی جگہ اباحت نے مذہب سے دور کر دیا۔مباحثات اور عقلی باتوں نے ان کو مذہب سے دور نہیں کیا ہے۔تمام یورپ کے حالات کا اگر غور سے مطالعہ کریں۔تو یہی حالت نظر آئے گی روس کو دیکھو کہ وہاں کیا حالت ہے کیا یہ حالت فلسفہ نے پیدا کر دی ہے؟ ہر گز نہیں۔بلکہ سچ یہ ہے کہ فلسفہ خود اسی حالت سے پیدا ہوا ہے۔اصل بات یہی ہے کہ قومی حالات قومی ترقی یا تنزل پر اثر ڈالتے ہیں اور یہ حالت افراد کے بعض معمولی افعال سے شروع ہوتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ وہ قومی عادت ہو جاتی ہے اور پھر اس کا اثر قوم کی ترقی یا تنزل پر ہوتا ہے۔عام لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے بلکہ ان باتوں کو حقیر سمجھتے ہیں لیکن علم النفس (سائیکالوجی) نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ چھوٹی سی بات کس طرح پر بڑی بن جاتی ہے اور اس کے اثرات قوم کے عروج و زوال پر کس طرح پڑتے ہیں یہ بات صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔میں نے ایک زمانہ میں دیکھا ہے کہ اسلام کے بعض احکام کو کس طرح نظر انداز کیا جاتا ہے؟ اس کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے کہ فلاں بات کا اسلام سے کیا تعلق؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص آپ کے سلسلہ میں داخل ہوا۔کسی نے کہا کہ ڈاڑہی منڈی ہوئی ہے۔حضرت نے فرمایا کہ جب اس نے میری بیعت کی ہے۔تو جب مجھ کو دیکھتا ہے کہ میں نے ڈاڑہی رکھی ہوئی ہے۔تو وہ بھی رکھ لے گا مگر اس کے ساتھ ہی دوسرے موقعہ پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ اخلاق پر کتاب لکھوں پھر جو شخص اس کے مطابق عمل نہ کرے۔اس کو خارج کر دوں۔یہ کیوں؟ اس لئے کہ قوم افراد کا مجموعہ ہوتی ہے۔اگر افراد کے اخلاق اور عادات درست نہ ہوں تو قومی کریکٹر نہیں بنے گا۔اور جب تک قومی کریکٹر درست نہ ہو قوم ترقی نہیں کر سکتی۔