خطبات محمود (جلد 8) — Page 487
487 75 قومی کریکٹر کی اہمیت اور ضرورت (فرموده ۱۹ ستمبر ۱۹۲۴ء بمقام لنڈن) تشھد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: دنیا میں جس قدر اثر ان اعمال کا ہوتا ہے جو کسی قوم کا خاصہ ہوتے ہیں (گو وہ کیسے ہی ادنی اور چھوٹے کیوں نہ ہوں) اتنا اثر ان عظیم الشان واقعات اور حالات کا نہیں ہوتا۔جو اس قوم کے افراد ے متعلق ہوں۔قوموں کی ترقی اور تباہی کے اسباب قطعا " بڑے واقعات میں نہیں ملیں گے بلکہ جب ہم تحقیق کریں گے۔تو ان کی ترقی اور تنزل کے اسباب بالکل چھوٹے واقعات میں ملیں گے جو قومی حیثیت اور اثر رکھتے ہوں گے۔انگلستان ہی کو دیکھو اس کی دینوی ترقی اور مذہبی تنزل کے موجبات کو اگر دیکھا جائے۔تو یہ دونوں باتیں قطعا " عظیم الشان واقعات سے وابستہ نہ ہوں گی۔انگلستان کی ترقی اور عروج دنیاوی شریفا لگر یا واٹرلو کی فتح سے متعلق نہیں۔بلکہ انگریزی قوم کے اخلاق اور تمدن سے تعلق رکھتے ہیں اور عظیم الشان فتوحات بھی انہیں اسباب کا نتیجہ ہیں۔گویا انگلستان واٹرلو یا ٹریفا لگر کی وجہ سے نہیں بنا۔بلکہ خود ان کی شان انگلستان کی وجہ سے ہے۔اسی طرح یورپ کے لوگوں نے اگر مذہب کو چھوڑ دیا ہے تو اس کی جڑ یہ نہیں ہوگی کہ انہوں نے بعض بڑے بڑے احکام اور قوانین مذہب کو ترک کر دیا ہے۔بلکہ اس کی جڑ بھی محض قومی اخلاقی نظر آئیں گے۔عیسائیت کے سب سے بڑے مسائل تثلیث اور کفارہ ہیں۔اور یہ ایسے احمقانہ مسائل ہیں کہ کوئی شخص جو کسی قسم کے تعصبات کے نیچے دبا ہوا نہیں۔اگر علیحدہ ذرا بھی فکر کرے گا۔تو اس کے عقلی قومی ان مسائل کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے اور وہ ان کو سرا سر لغو اور غلط یقین کرے گا۔مگر باوجود اس کے عیسائیت کا تنزل ان مسائل کے لغو یا غلط ہونے سے نہیں۔حالانکہ یہ قابل نفرت و انکار ہیں۔بلکہ عیسائیت کے تنزل کی وجہ باریک اور چھوٹے مسائل اور بعض