خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 436

436 یہ وہ کامل توحید ہے، جس کا اسلام ہم سے مطالبہ کرتا ہے اور اسی وجہ سے سجدہ اور رکوع خدا کے سوا کسی اور کو کرنے سے منع کیا گیا ہے۔بعض لوگ حیران ہوتے ہوں گے کہ کسی کے آگے جھکنے سے خدا کی کیا ہتک ہو گئی۔مگر اس سے اسی لئے روکا گیا ہے کہ انسان کا ہر قسم کا انتہائی تعلق خدا سے ہونا چاہیئے جب تمام دنیاوی معاملات میں ایسا ہو تب کامل توحید حاصل ہوتی ہے۔اور اس طرح تمام کاموں میں پڑکر بھی انسان خدا کی راہ میں ترقی کرتا اور روحانی مدارج حاصل کرتا رہتا ہے۔لیکن اگر اس توحید کو چھوڑ دے تو خواہ ننگ دھڑنگ ہو کر جنگلوں میں پھرتا رہے، درختوں کے پتے کھا کر پیٹ بھرے تو بھی توحید نہیں پاسکے گا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے دست در کار و دل با یار کے مطابق عمل ہونا چاہیئے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ تم جو کلمہ توحید پڑھتے ہو۔اور اس پر زور دیتے ہو کہ اس کے سوا کوئی مسلمان نہیں ہوتا۔تم اپنے اعمال پر بھی نظر کرو۔اور دیکھو کہ ہر چیز جو تمہیں ملتی ہے، اس کی آخری کڑی تم خدا تعالیٰ کو سمجھتے ہو یا نہیں، اگر تم اپنے کاموں میں اس بات کو جاری کر لو۔تو یہی توحید ہے ورنہ منہ سے لا الہ الا اللہ کہنے کا نام توحید نہیں۔اور جب تک کوئی صرف منہ سے کہتا ہے اس وقت تک اسے کچھ نفع نہیں ہوتا۔خدا تعالٰی آپ لوگوں کو سچی اور حقیقی توحید سکھائے اور ہر قسم کے شرسے بچائے، خدا تعالٰی یہ کہتا ہے کہ شرک معاف نہیں ہو گا۔اس کی یہی وجہ ہے کہ خدا کہتا ہے کیا وہی چیزیں جو میری یاد دلانے والی تھیں۔وہی روک بن گئیں۔آج نماز جمعہ کے بعد ایک جنازہ پڑھا جائے گا۔یہاں ایک احمدی پٹھان ہیں۔ان کے بھائی کے متعلق خط آیا ہے کہ وہ اپنے وطن میں مار ڈالا گیا ہے، وہاں چونکہ اور احمدی نہیں تھے اور مخالفت کی وجہ احمدیت ہی ہے اس لئے اس کا جنازہ پڑھوں گا۔ا سفینتہ الاولیاء مصنفہ دارا شکوہ ۷۴ الفضل ۲۴ جون ۱۹۲۴)