خطبات محمود (جلد 8) — Page 435
435 کھاتے پیتے، عورتوں بچوں سے تعلقات رکھتے توحید ہی توحید مد نظر نہیں ہوتی اس وقت تک کوئی مومن نہیں ہو سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو ایک ارشاد فرمایا ہے۔اس سے دیکھ لو۔یہ سب باتیں کس طرح عبادت میں داخل ہو جاتی ہیں۔آپ نے فرمایا ، اگر کوئی بیوی کو لقمہ کھلاتا ہے، تو یہ بھی اس کی عبادت ہے، اب لقمہ دیکر اس نے تو خود ناز اٹھایا اور مزا پایا ، پھر عبادت یہ کس طرح ہو گئی۔لیکن چونکہ وہ اس نیت سے لقمہ دیتا ہے کہ خدا نے کہا ہے۔اس لئے یہ عبادت ہو گی۔اسی طرح انسان کھانا کھاتا ہے۔اور مزا لیتا ہے، کپڑا پہنتا اور آرام پاتا ہے، لیکن اگر اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ یہ چیزیں خدا کی دی ہوئی ہیں۔تو اس کی عبادت سمجھی جاتی ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق آتا ہے، جب بارش ہوتی تو آپ اسے جسم پر ڈالتے ، منہ میں ڈالتے اور فرماتے خدا نے یہ تازہ نعمت بھیجی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ عرش سے خدا نے بارش بھیجی، بلکہ یہ کہ خدا نے نعمت دی ہے۔اس کی قدر کرنی چاہئے۔پس اگر ہر نعمت کے لئے یہ کہا جائے کہ خدا نے دی ہے تو یہ توحید ہو گی۔اگر ہر بات میں اس نکتہ کو مد نظر رکھا جائے تو پھر کوئی انسان خدا سے دور نہیں ہو سکتا۔لوگ خدا سے دور ہوتے ہیں کھانے پینے کے لئے یا آرام و آسائش کے لئے، لیکن جو شخص یہ خیال کرے گا کہ سب کچھ خدا ہی دیتا ہے، وہ خدا کو بھولے گا یا ہر وقت یاد رکھے گا دیکھو اگر کسی کو کوئی دوست کھانا بھیجے تو کھاتے وقت بھیجنے والا دوست یاد آئے گا۔یا بھول جائے گا، اگر کوئی کسی کے لئے کپڑے لائے تو انہیں پہنتے وقت لانے والا یا د یا فراموش ہو جائے گا۔کئی لوگ تھے لاتے ہیں۔مثلا " جائے نماز وہ اس لئے نہیں لاتے کہ بھول جائیں۔بلکہ اس لئے لاتے ہیں کہ یاد آتے رہیں۔اسی طرح انسان اگر سب اشیاء کو خدا تعالیٰ کی طرف سے تحفہ سمجھ لے تو ان کی وجہ سے خدا کو یاد کرتا رہے گا۔بھلائے گا نہیں، اور یہی توحید ہے۔اس صورت میں ہر چیز خدا کو دیکھنے کا آئینہ بن جاتی ہیں۔اور آئینہ جب آنکھ کے سامنے آجائے تو نظر گھٹ نہیں جاتی۔بلکہ بڑھ جاتی ہے، جو لوگ عینک لگاتے ہیں وہ اس لئے نہیں لگاتے کہ نظر گھٹ جائے، بلکہ اس لئے لگاتے ہیں کہ بڑھ جائے، اس طرح جن چیزوں کو انسان خدا تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر استعمال کرتا ہے، وہ خدا کو اور زیادہ یاد دلانے والی ہوتی ہیں۔لباس جب ایسا انسان پہنتا ہے تو خدا کو زیادہ یاد کرتا ہے، مکان میں جب انسان داخل ہوتا ہے تو خدا کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے اور یہ چیزیں اسی طرح اسے خدا دکھاتی ہیں۔جس طرح اعلیٰ درجہ کی عینک صحیح اور زیادہ عمدہ منظر کمزور نظر والے کو دکھاتی ہے۔