خطبات محمود (جلد 8) — Page 415
415 پنسل کے اٹھانے میں کیوں ناکام رہا۔اس لئے کہ اس نے اتنی طاقت پنسل کے اٹھانے میں خرچ کی تھی۔جتنی کہ اس نے پہلی دفعہ جبکہ پنسل لیوی سے چپکی ہوئی نہ تھی۔خرچ کی تھی۔اور چونکہ اس کا ہاتھ اس قدر طاقت خرچ کرنے کے لئے تیار ہو کر نہ آیا تھا۔جس قدر چاہیئے تھی۔اس لئے پنسل اٹھائی نہ جا سکی۔لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ پنسل چپکی ہوئی ہے۔تو اور طاقت اس نے صرف کر کے پنسل کو اٹھایا۔یہی حال انسان کے اعضاء کا ہے۔کہ وہ کسی کام کے کرنے کے وقت اندازہ لگا لیتے ہیں۔کہ اس کام کے کرنے میں کتنی طاقت صرف ہو گی۔اور پھر وہ اتنی ہی طاقت اپنے اندر مہیا کر کے اس کام کو کر لیتے ہیں۔بعینہ یہی حالت کانوں کی ہے۔وہ چونکہ اونچی آواز سننے کے عادی ہوتے ہیں اس لئے اونچی آواز سننے کے منتظر رہتے ہیں۔اور اتنی ہی طاقت اپنے اندر مہیا رکھتے ہیں کہ اونچی آواز سن سکیں۔لیکن جب وہ اپنی توقع کے خلاف آہستہ آواز سنتے ہیں۔تو اسے نہیں سن سکتے اور سننے والے کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کچھ سنا ہی نہیں اور نہ سننے کی وجہ سے سلام کرنے والا خیال کرتا ہے کہ اس کے سلام کا جواب نہیں دیا گیا۔اور اس کے سلام کی پرواہ نہیں کی گئی۔مگر دونوں اصل میں معذور ہوتے ہیں۔کیونکہ اصل وجہ وہی ہے۔جو میں پہلے بتلا آیا ہوں۔ایک ہمارا ہم جماعت بہرہ تھا اور دوسرے بہروں کے برخلاف بہت آہستہ بولتا تھا۔اس سے بات چیت تو بلند آواز سے کی جاتی تھی۔لیکن بہرہ ہونے کی وجہ سے وہ چونکہ بہت آہستہ سنتا تھا۔اس لئے بولتا بھی آہستہ تھا۔اور بعض اوقات کلام کرتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ منہ میں بڑبڑا رہا ہے ایسے شخص سے اگر کوئی بلند آواز میں سلام کے جواب کی توقع رکھے۔اور پھر نہ سنے۔تو دونوں اپنی اپنی جگہ معذور ہوں گے۔پس بعض لوگ سلام کا جواب اپنی عادت کے موافق آہستہ دیتے ہیں۔اور سلام کرنے والا ان کے جواب کو اچھی طرح سن نہیں سکتا۔اس لئے وہ خیال کرتا ہے کہ میرے سلام کا جواب نہیں دیا گیا۔اور بد ظن ہو کر شکایت کرتا ہے۔تو جیسا کہ مجھے آہستہ جواب دینے کی عادت تھی۔ایسا ہی ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں ہے اور ان کے لئے میری مثال عذر ہے۔لیکن پھر بھی میں کہتا ہوں کیا شریعت کے مقررہ سلام سے یہی منشاء ہے کہ انسان صرف سلام کے لفظ کو منہ سے ادا کر دے۔خواہ اس کو دوسرا سنے یا نہ سنے۔اگر صرف کہہ دینا ہی کافی ہوتا۔اور دوسرے کو سنانا اور اس کا جواب لینا ضروری نہ ہوتا تو شریعت میں سلام کو آہستہ کہنے کا ہی حکم ہوتا اور جس طرح ہم آہستہ نماز میں تسبیح اور تحمید پڑھتے ہیں اسی طرح ہم آہستہ سلام بھی کہہ دیتے اور شریعت میں یہ نہ قرار دیا جاتا کہ سلام سن کر اس کا جواب