خطبات محمود (جلد 8) — Page 412
412 66 آداب ملاقات اور سفریورپ کی اصل غرض (فرموده ۲۳ مئی ۱۹۲۴ء) شهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : میں نے پچھلے دنوں ایک امر کے متعلق مشورہ لیا تھا۔اور اب بھی اسی امر کے متعلق ایک الگ مشورہ لیا ہے۔ان مشوروں کے لینے کی وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ امر ایسے طور پر مشہور ہو چکا ہے کہ اس کا اب مخفی رکھنا ٹھیک نہیں۔اس لئے میں اس میں حرج نہیں سمجھتا کہ خطبہ میں اس کا اظہار کر دوں۔وہ امر میرے ولایت جانے کے متعلق ہے۔اس کی نسبت میں نے جماعت سے مشورہ لیا ہے کہ یہ وقت میرے ولایت جانے کے لئے بہتر ہے یا نہیں اور جماعت کے لوگوں سے آراء طلب کی گئی ہیں۔تاکہ جانے کے متعلق فیصلہ ہو۔چنانچہ رائیں اور مشورے باہر کی جماعتوں کے آرہے ہیں۔اور انہی مشوروں کی ضمن میں اور اسی تحریک کی اثناء میں ایک دوست نے خط لکھا ہے۔جس میں وہ لکھتے ہیں گو میں غیر مبائع ہوں۔لیکن مجھے آپ سے بعض مبایعین سے بھی زیادہ محبت ہے۔اس لئے اس تحریک کے موقعہ پر میں بھی مشورہ دیتا ہوں اور اپنی رائے کا اظہار کرتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے خط میں میرے جانے کے متعلق مشورہ دیا ہے۔لیکن قبل اس کے کہ میں ان کے مشورہ کو بیان کروں ان کے اس فقرہ کے متعلق جو انہوں نے لکھا ہے کہ مجھے آپ کے ساتھ بعض مبایعین کی نسبت زیادہ محبت ہے۔کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔وہ یہ کہ اس قول کو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کیونکہ اگر کوئی شخص کسی امر کا دعوی کرے اور اس کے دعوی کی کوئی مخالفت نہ کرے اور نہ ہی اس کے دعوئی کے برخلاف ہمارے پاس ایسے دلائل موجود ہوں جن سے اس کے دعوئی کی تردید ہو سکے تو ہم اس صورت میں اس کے دعوی کو تسلیم کر