خطبات محمود (جلد 8) — Page 380
380 ہے۔اور جس کے نہ ہونے کی وجہ سے ایک شخص جاہل کہلاتا ہے۔وہ ان کے پاس نہ ہو گا۔قرآنی اصطلاح میں جاہل اس کا نام نہیں۔جو منطق و فلسفہ کی اصطلاحات نہ جانتا ہو۔اور نہ ہی قرآنی اصطلاح کی رو سے اس شخص کو جاہل کہا جاتا ہے۔جو قرآن اور حدیث کی عربی عبارت کو اچھی طرح نہ پڑھ سکے۔بلکہ قرآنی اصطلاح میں عالم اس کو کہتے ہیں۔جو دین کی سمجھ اور خدا کا قرب اور اس کا عرفان رکھتا ہو اور جو خدا کی درگاہ سے دور ہو اسے جاہل کہتے ہیں۔اسی قرآن کے اصطلاحی علم کی تعریف کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ کے لوگ عالم اور جاہل کہلاتے تھے اور یہی قرآنی علم اس وقت عالم اور جاہل کے درمیان فرق کرنے کا ذریعہ تھا۔نہ کہ وہ علم جو آج کل مروج ہیں۔اور اگر آج کل کے علوم مروجہ کو اس وقت کے لوگوں کے لئے معیار علم بنائیں۔تو بڑے بڑے جید صحابہ جاہل ٹھہریں گے۔کیونکہ یہ علوم مروجہ اس وقت نہ تھے۔کیا کوئی شخص یہ ثابت کر سکتا ہے کہ منطق و فلسفہ آنحضرت کے وقت موجود تھا اور آنحضرت اور ابو بکڑ نے منطق پڑھی تھی۔اور آپ منطقی اصطلاحات کو خوب جانتے تھے۔ہرگز نہیں۔کیونکہ یہ تمام علوم بعد کے ہیں یہ صحابہ کے وقت میں مروج نہ تھے۔منطق و فلسفہ تیسری صدی میں یونانی سے ترجمہ ہوا ہے۔کیا اس وقت اگر حضرت ابو بکڑ سے کوئی منطقی اصطلاح پوچھی جاتی۔تو آپ اس کا جواب دے سکتے اور سائل کی تسلی کر سکتے۔یا اگر عربی کے لفظ کے وہ زائد معنے جو بعد میں رواج پکڑ گئے ہیں۔آپ سے پوچھے جاتے تو آپ بتا دیتے پھر کیا حضرت ابو ہریرہ سے اگر کوئی پوچھتا کہ ابو ہریرہ بتاؤ کہ حسن حدیث کون سی ہوتی ہے اور مرفوع کون سی؟ تو کیا وہ اس کا جواب دے کر اس کی تسلی کر دیتے ہرگز نہیں۔وہ سائل کے جواب میں یہی کہتے کہ میں حسن اور مرفوع نہیں جانتا میں یہ جانتا ہوں کہ میں نے یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔حضرت ابو ہریرہ کے نہ بتلانے کی وجہ یہی ہوگی کہ اس وقت یہ قسمیں نہ قرار پائی تھیں۔آج بھی بہت سے لوگ اس علم سے ناواقف ہیں۔چنانچہ اگر یہ کہا جائے کہ مرفوع متصل حدیث کون سی ہوتی ہے۔تو کئی حیران ہو جائیں گے اور جواب نہ دے سکیں گے لیکن اگر مرفوع متصل کی تعریف بتا دی جائے اور کہا جاوے کہ وہ حدیث ہوتی ہے۔جس کا کوئی راوی چھٹا ہوا نہ ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک روایت کا سلسلہ پہنچے۔تو اس کا کوئی انکار نہ کرے گا اور ان پڑھ سے ان پڑھ بھی سمجھ لے گا۔حالانکہ یہ وہی تعریف ہے۔جو مرفوع متصل کے الفاظ میں مجملاً رکھی گئی ہے۔پس علم کیا ہے۔صرف چند اصطلاحوں کا نام ہے۔ان