خطبات محمود (جلد 8) — Page 379
379 62 (فرموده ۲۵ اپریل ۱۹۲۴ء) نیا آسمان اور نئی زمین پیدا کرنا مشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے اس آیت کی تلاوت فرمائی وقالوا اتخذ الرحمن ولد القد جئتم شيئا اداه تكاد السموات يتفطرن منه و تنشق الارض و تخر الجبال هذا ان دعو اللرحمن ولد او ما ينبغى للرحمن ان يتخد و لدا: (سورة مريم ۸۹ تا (۹۳ فرمایا۔بہت سی باتیں دنیا میں ایسی ہیں جو جہالت اور نادانی کی وجہ سے انسان کی سمجھ میں نہیں آتیں اور بعض ایسی ہوتی ہیں۔جو انسانی عقل سے بالا ہوتی ہیں۔اور عام لوگ بوجہ ناواقفیت یا روحانیت کی کمی کے ان کو نہیں سمجھ سکتے۔اور اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں۔ایسے اعتراض کرنے والے عموماً وہی لوگ ہوتے ہیں۔جو روحانیت سے گرے ہوئے ہوتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہی لوگوں میں سے مسیح موعود کے زمانہ کے علماء کو قرار دیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ علماء بدترین مخلوقات میں سے ہوں گے۔اور ان کی شرارت حد سے بڑھی ہوئی ہو گی۔یہاں تک کہ آپ نے ان کو اشرالناس کا خطاب دیا۔اور دابتہ الارض فرمایا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ان کے سطحی خیالات ہوں گے اور روحانیت سے بالکل عاری ہوں گے وہ عالم کہلائیں گے لیکن در حقیقت جاہل ہوں گے وہ ہدایت یافتہ سمجھے جائیں گے لیکن اصل میں گمراہ ہوں گے۔اور ان کی گمراہی نہ صرف ان کے نفسوں تک ہی محدود ہو گی بلکہ وہ اوروں کو بھی گمراہ کریں گے اور ان کے سردار بن جائیں گے وہ ظاہر میں تو عالم ہوں گے انہوں نے منطقی اصطلاحوں کو رٹا ہوا ہو گا۔وہ فلسفے کے حافظ ہوں گے اور تقریر کرنے میں بڑے طرار ہوں گے لیکن اصل علم ان کے پاس نہ ہو گا یعنی وہ علم جس کے ہونے کی وجہ سے قرآنی اصطلاح کی رو سے ایک شخص عالم کہلاتا