خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 360

360 چونکہ روزوں میں کوئی خاص دعائیں نہیں پڑھی جاتیں کوئی خاص کام نہیں کرایا جاتا۔اس لئے روزوں کا وقت صبح سے لے کر شام تک کا ان لوگوں کے لئے جو کہ ان کی اصل حقیقت سے نا آشنا ہوتے ہیں۔بڑا مشکل گذرتا ہے۔اور وہ خیال کرتے ہیں کہ خدا تعالٰی ہم کو بھوکا پیاسا رکھنا چاہتا ہے۔اس کے سوا روزہ کی اور کوئی غرض اور فائدہ نہیں ہے۔ایک معمولی اور روحانیت سے بے بہرہ انسان کا قلب روزے کی حقیقت کو اس سے زیادہ قبول نہیں کر سکتا۔یہی وجہ ہے کہ عام طور پر لوگ روزے کو چٹی خیال کرتے ہیں۔حالانکہ حقیقت میں روزہ چٹی نہیں ہے۔بلکہ روحانیت اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہونے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔لیکن اگر اس کی ظاہری حیثیت کو ہی لے لیا جائے جو یہ ہے کہ روزہ نام ہے بھوکے اور پیاسے رہنے اور اپنے جلدی کے کاموں میں بلا وجہ اللہ کے حکم سے تاخیر ڈالنے کا۔تو بھی میں کہتا ہوں کہ روزے خدا کی ایک عظیم الشان عبادت ہیں۔اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ۔کیونکہ روزے کا اگر کوئی بھی فائدہ نہ ہو تو کیا یہ فائدہ کم ہے کہ روزہ رکھنے والا خدا تعالٰی کے لئے بھوکا اور پیاسا رہتا ہے۔اور خدا کے لئے اور اس کے حکم کی تعمیل میں بھوکا پیاسا رہنا ہی بڑی عبادت ہے۔لیکن روزہ اپنے اندر بڑی بڑی حکمتیں رکھتا ہے۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ روزے کے ذریعے انسان اپنے جسم کو اس امر کی عادت ڈالتا ہے کہ اگر اس کو کسی وقت خدا تعالیٰ کے راستہ میں نکلنے کا حکم ہو تو۔بلا تامل بھوک اور پیاس کی تکلیف کی پروا نہ کرتے ہوئے نکل کھڑا ہو اور خدا کے حکم کو بسر و چشم بجالائے اس کی مثال بعینہ یہ ہے کہ جیسے ایک سپاہی کو تیز رو گھوڑے پر چڑھا دیا جاتا ہے۔اور اس کے راستہ میں کئی ایک کھائیاں کھور دی جاتی ہیں اور اس کو کہا جاتا ہے کہ گھوڑا دوڑا کر ان کھائیوں کو عبور کرو۔وہ جانتا ہے کہ میری جان کسی دشمن کی وجہ سے خطرے میں نہیں کہ مجھے بھاگنا چاہیئے۔وہ جانتا ہے کہ حکومت کو بھی اس وقت کسی بیرونی دشمن کے حملہ کا ڈر نہیں۔لیکن باوجود ان تمام باتوں کو جانتے ہوئے۔پھر وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالتا ہے۔اور ان گہری کھائیوں کو عبور کرتا ہے۔کیوں اس لئے کہ اس طرح اس کو مشق کرائی جاتی ہے۔تاکہ اس وقت جب کہ اس کے ملک پر کوئی بیرونی دشمن حملہ کرے یا اس کے ملک کو کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا پڑے تو وہ بہادری اور ہمت سے کام کر سکے۔اگر اس کو اس بات کی شروع سے مشق نہ کرائی ہو گی۔یعنی اس سے بڑی بڑی کھائیاں عبور نہ کروائی ہوں گی۔تکلیف اور مشقت برداشت کرنے کا عادی نہ بنایا ہو گا۔تو وہ ضرور ضرورت کے وقت بھاگ جائے گا۔اور اگر بھاگے گا نہیں۔تو کوئی