خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 359

359 60 رمضان المبارک کے روزے اور ان کی غرض (فرموده ۱۸ اپریل ۱۹۲۴ء) مشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت پڑھی و اذا سألك عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوة الداع اذا دعان فليستجيبوالی ولیو منوابی لعلهم يرشدون (البقره (۱۸۷) اور پھر فرمایا۔جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں پچھلے پانچ دنوں سے رمضان کا مہینہ شروع ہو گیا ہے یہ وہ مہینہ ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔اور قرآن شریف جو رمضان سے پہلے نازل ہوتا تھا۔وہ رمضان کے مہینے میں دوبارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا جاتا تھا۔رمضان کے روزے بظاہر ان عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے۔جو اپنے اندر قریبا" قریبا" ظاہری اور جسمانی رنگ نہیں رکھتی ہیں۔حج کو لو۔اس کے لئے سفر اختیار کیا جاتا ہے۔اور حاجیوں کے لئے خاص دعائیں مقرر ہیں۔جو وہ حج کو جانے اور حج کرنے میں پڑھتے ہیں۔یہ حج کی ظاہری شکل ہے۔نماز میں بھی تسبیح و تحمید رکوع سجود قیام قعدہ موجود ہیں۔اور ان کی موجودگی کی وجہ سے نماز یہ ظاہری رنگ رکھتی ہے پھر جب سے دنیا کا پتہ تاریخ کے ذریعہ چلتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے۔صدقہ و زکوۃ کا مسئلہ بہت پرانا ہے۔اور قدیم سے غرباء و مساکین کی امداد کرنے کا طریق چلا آیا ہے۔یہ بھی اپنے اندر ظاہری رنگ رکھتا ہے۔کیونکہ محتاجوں کی ضروریات ظاہری طور پر پوری کی جاتی ہیں۔لیکن روزوں میں کوئی ظاہری بات نہیں۔بلکہ ان کا اثر انسان کی طبیعت پر پڑتا ہے۔اور اس اثر کے مخفی ہونے کی وجہ سے بعض لوگ روزوں کو سزا خیال کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ خدا نے روزے بھوکا پیاسا رکھ کر سزا دینے کے لئے مقرر کئے ہیں۔