خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 342

342 کہ تم مسلمانوں یا عیسائیوں یا موسائیوں یا ہندوؤں سے جا کر پوچھو۔بلکہ تم چوہڑے چمار اور سائنسی لوگوں سے پوچھو کہ اگر کوئی ایسا کرے تو وہ کیسا ہے۔تو وہ بھی اس کو بہت ہی گندہ قرار دیں گے اور اخلاق سے گرا ہوا جائیں گے۔پس ان سے قطع تعلق غیرت کی وجہ سے تھا بھلا مومن کیونکہ برداشت کر سکتا ہے کہ ہمارے اندر ہو کر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہوا یہ کہے کہ آنحضرت صلعم کی شریعت منسوخ اور آنحضرت صلعم سے بہاء اللہ افضل ہے۔حضرت مسیح موعود ہم کو پیارے ہیں۔ساری دنیا سے آپ کی وجہ سے ہم نے لڑائی شروع کر رکھی ہے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پیارے نہیں۔میں روز ایسے لوگوں کو ملتا اور دیکھتا ہوں جو حضرت مسیح موعود کے کمالات کے قائل نہیں اور آپ کی دعاوی کے منکر ہیں۔لیکن یہ بات قطعاً میری طبیعت پر اتنی شاق نہیں گزرتی جتنی یہ کہ آنحضرت صلعم کی تعلیم کی موجودگی میں فلاں کی تعلیم اعلیٰ ہے۔اور فلاں آنحضرت صلعم سے علم اور اخلاق میں بالا ہے بلا شبہ حضرت مسیح موعود نہ ہوتے تو آنحضرت صلعم کی ہمیں بھی وہ شناخت نہ ہوتی۔جس نے ہمارے دلوں میں آپ کی محبت کی آگ لگا دی ہے جس سے غیر احمدی محروم ہیں۔لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ گو تصویر سے اصل کی خوبی کا اندازہ کیا جاتا ہے۔مگر تصویر اصل پر فائق نہیں ہو سکتی۔عکس عکس ہی ہے۔اور اصل اصل ہی ہے۔آنحضرت صلعم کی جو شان حضرت مسیح موعود نے بیان فرمائی۔واللہ ہم اس کو اس لئے نہیں مانتے کہ حضرت مسیح موعود نے فرما دیا ہے۔بلکہ ہم خود اس باغ میں داخل ہوئے اور خوب سیر کی۔مرزا صاحب کے الفاظ جادو کا اثر رکھتے تھے۔دراصل انبیاء کے کلام دروازہ کھولنے والے اور دائرہ قلب تک پہنچانے والے ہوتے ہیں۔قرآن کریم کے مطالب کی کنجیاں ہم کو دی گئیں۔ہم نے ان کنجیوں کو لگا کر وہ معارف نکالے ہیں۔اور ہمیں اس کے اندر وہ علوم نظر آتے ہیں جو آج تک سب مذاہب کی کتابوں میں نہیں پائے جاتے۔خواہ وہ مذہب نئے ہوں یا پرانے قرآن کریم کی تعلیم کے مقابلہ پر جب بہاء اللہ کی تعلیم کو رکھا جاتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے۔جیسے ایک چڑیل کو ایک حور کے سامنے لاکھڑا کیا جائے۔بلکہ یہ نسبت بھی قرآن کریم کی نہیں ہے کیونکہ آخر بدصورت اور خوبصورت انسان انسانیت میں تو شریک ہیں۔مگر بہائی تعلیم کو اتنی بھی شراکت نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ بہائی تعلیم ہو یا کوئی اور ان کو قرآن کے مقابلے میں اتنی بھی حیثیت حاصل نہیں جتنی ایک خوبصورت اور حسین ترین عورت کے مقابل ایک چڑیل کو ہوتی ہے اور میرا یہ کہنا کوئی سنی سنائی بات نہیں۔بلکہ میں اس علم کی بناء پر جو حضرت مسیح موعود کے ذریعے مجھے دیا گیا