خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 341

341 دوسری طرف سے آیا۔اور پھر سلام کیا۔آپ نے پھر جواب نہیں دیا۔اور دوسری طرف منہ کر لیا۔دوسروں نے سمجھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو معلوم نہیں وہ بہت خوش ہوئے کہ آریوں کا ایک بڑا آدمی سلام کرنے آیا ہے۔ایک دوست نے توجہ دلا کر کہا کہ حضور پنڈت لیکھرام صاحب سلام کرتے ہیں۔آپ نے اس کو خطاب کر کے فرمایا۔”میرے آقا کو گالیاں دیتا ہے۔اور مجھے سلام کرنے آیا ہے۔ایک مقام غیرت کا ہوتا ہے۔یہ نہیں تھا کہ حضرت مسیح موعود چاہتے تھے کہ لیکھرام تباہ ہو۔آپ نے لکھا ہے کہ جب وہ میرے سامنے آتا تھا۔تو میں دعا کر تا تھا کہ خدایا اس کو ہدایت دے۔ee دیکھو! دونوں باتیں جمع ہیں۔غیرت کے لحاظ سے آپ نے اس کے سلام کا بھی جواب نہ دیا۔مگر وسعت حوصلہ کے لحاظ سے آپ اس کے لئے دعا فرماتے تھے۔کیونکہ انبیاء کو لوگوں سے باپ سے۔بڑھ کر محبت ہوتی ہے۔مگر اس کے لئے اللہ تعالٰی سے تعلقات کے منتظر ہوتے ہیں۔قطع تعلقات اختلاف مذہب کی وجہ سے نہیں ہزاروں عیسائیوں ہندوؤں غیر احمدیوں اور سکھوں سے ہمارے تعلقات ہیں۔پس اختلاف مذہب سے تعلقات منع نہیں ہو جاتے۔بلکہ حد شرافت سے گزر جانے سے تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں۔دہریہ سے جو خدا کا بھی منکر ہے۔ہمارے تعلقات ہوں گے۔مگر بعض اوقات ایک احمدی کہلانے والے سے نہیں ہوں گے۔آنحضرت صلعم ابو سفیان اور مکہ کے دوسرے لیڈروں سے باتیں کر لیتے تھے۔لیکن تین خاص صحابیوں سے بات نہ کرتے تھے۔۲ پس غیرت اور وسعت دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں۔ان لوگوں نے یہی ہم میں سے ہو کر ہمارے کہلا کر ہم کو دھوکہ دیا۔ان کی یہ کارروائی شرافت کے لحاظ سے جائز نہ تھی بھائی بنے تھے۔تو صاف کہتے بہائی ہو کر احمدی کہلانا یہ منافقانہ چال ہے ہمیں ان سے اس بات کا شکوہ نہیں کہ وہ بہائی کیوں ہوئے بلکہ ہمیں جو شکوہ ہے وہ یہ ہے کہ ہماری بیعت کر کے ہم کو فریب دیا۔اگر ان کو شکوک پیدا ہوئے تھے۔تو وہ مجھے بتاتے۔بتایا نہیں اور مخفی طور پر تبلیغ بھی شروع کر دی۔اور ان کو آگے کہہ دیا کہ دیکھو نا کسی کو بتانا نہیں۔وہ ان کاموں پر لگے رہے۔جو محض احمدیت کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے جاری کئے گئے ہیں۔مگر انہوں نے ان کاموں پر تنخواہیں لے کر احمدیت کے خلاف مضامین شائع کئے۔ان کی یہ حرکات اخلاق اور شریعت سے گری ہوئی ہیں۔اخلاق کے مختلف اقوام میں مختلف مدارج ہوتے ہیں۔مگر دنیا کی ادنی ترین اقوام جن کو بعض دفعہ لوگ اچھوت کہہ دیتے ہیں کے معیار اخلاق سے بھی گرا ہوا یہ فعل ہے۔میں قطعا یہ نہیں کہتا