خطبات محمود (جلد 8) — Page 31
31 ہوا۔مگر عارضی۔محمد علی شوکت علی صاحبان کو کس قدر لوگوں نے بلند کیا۔مگر عارضی۔کچھ عرصہ پہلے مسٹر گاندھی کا کتنا شور تھا مگر دو ہی سال کے عرصہ میں آج ان کو لوگوں پر پہلے اثر کا دسواں حصہ بھی حاصل نہیں۔ان عارضی جوشوں کی ایسی ہی مثال ہوتی ہے۔جیسے روڑیوں پر پھول اگ آتے ہیں اور چند دن میں مرجھا جاتے ہیں۔مگر جو پھول باغ میں ہوتے ہیں ان کی باغبان نگرانی کرتا ہے۔ایک مرجھا جاتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لگا دیتا ہے۔تو انسانوں کے پیدا کئے ہوئے جوش مستقل نہیں ہوتے۔مگر خدا تعالی کے پیدا کردہ جوش میں استقلال ہوتا ہے۔جب کبھی ذرا سستی پیدا ہونے لگے۔تو اور جوش پیدا کر دیتا ہے۔برلن میں مسجد کے متعلق جو تحریک کی گئی ہے۔اس میں دیکھا گیا ہے کہ عورتوں نے اپنے اخلاص کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے جو کسی اور جگہ ہرگز نہیں مل سکتا۔اس وقت تک ۲۵ ہزار کے وعدے ہو چکے ہیں اور کوئی تعجب نہیں کہ جو رقم کی گئی ہے۔اس سے بہت زیادہ ہو جائے۔کیونکہ ابھی تک کئی جماعتیں باقی ہیں۔اس تحریک کے متعلق بھی دیکھا جائے تو اس میں بھی یہی بات پائی جاتی ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔اور وہی بات آج میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔جو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے بعض ایسے سامان پیدا کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ تحریک مقبول ہے۔جہاں دوسرے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ مال خرچ کرنے کی وجہ سے ان میں سے لوگ مرتد ہو جاتے ہیں۔وہاں ہمیں ایک نیا تجربہ ہوا ہے۔میں نے اس مسجد کی تحریک کے لئے یہ شرط رکھی تھی کہ احمدی عورتوں کی طرف سے یہ مسجد ہوگی جو ان کی طرف سے نو مسلم بھائیوں کو بطور ہدیہ پیش کی جائے گی اب بجائے اس کے کہ وہ عورتیں جنہیں کمزور کہا جاتا ہے۔اس تحریک کو سن کر پیچھے ہٹتیں عجیب نظارہ نظر آیا اور وہ یہ کہ اس تحریک پر اس وقت تک گیارہ عورتیں احمدیت میں داخل ہو چکی ہیں تاکہ وہ بھی اس چندہ میں شامل ہو سکیں۔یہ خبر ہیں وقت تک آچکی ہے۔اوروں کا پتہ نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتیں پہلے ہی احمدی تھیں۔کوئی اس لئے مذہب نہیں بدلا کرتا کہ چندہ دے۔وہ پہلے احمدی تھیں مگر ان میں احمدیت کے اظہار کی جرات نہ تھی۔اب انہوں نے دیکھا کہ اگر اب بھی جرات نہ کی تو اس ثواب سے محروم رہ جائیں گی۔گویا اس طرح اس تحریک نے گیارہ روحوں کو ہلاکت سے بچا لیا۔اور یہ پہلا پھل ہے جو اس تحریک سے ہم نے چکھا ہے کہ گیارہ روحیں ہلاکت سے بچ گئی ہیں۔ایک مثل مشہور ہے اور وہی بات یہاں بن جاتی ہے۔کہتے ہیں ایک بادشاہ گذر رہا تھا کہ اس نے دیکھا ایک بوڑھا ۸۰-۹۰ سال کی عمر کا درخت لگا رہا ہے۔وہ درخت کوئی اس قسم کا تھا جو لمبے عرصہ کے بعد پھل دیتا ہے۔بادشاہ نے اس بوڑھے کو کہا۔یہ درخت تو بہت عرصہ کے بعد پھل دے گا۔تم اس سے کیا فائدہ اٹھا سکو گے۔بڑھے نے کہا بادشاہ سلامت بات یہ ہے کہ ہمارے