خطبات محمود (جلد 8) — Page 249
$249 ایک بے بسی کی حالت تھی جس میں وہ لوگ مبتلا تھے۔اور خیال کرتے تھے شاید اس طرح کچھ بنالیں۔مجھے یاد ہے کہ میں گاڑی کی پچھلی نشست پر گھوڑے کی طرف منہ کر کے بیٹھا ہوا تھا اور گاڑی کی ناقی میں سے قریباً نصف باہر جھک کر دور تک اس تماشہ کو دیکھتا رہا کہ یہ لوگ شور کیوں کرتے ہیں۔پس یا تو وہ زمانہ تھا کہ رب العالمین کے مامورو مرسل پر لوگ تالیاں بجاتے اور خوش ہوتے تھے کہ ہم نے بڑا کام کیا۔لیکن آج آپ کے خادم کہیں جاتے ہیں جو آپ کے درجہ کے مقابلہ میں کچھ حقیقت نہیں رکھتے تو لوگ ان کا ادب کرتے اور ان کو آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔سینکڑوں آتے اور ادب سے ملتے ہیں۔اگر مخالف بھی ہوتے ہیں تو بھی اتنا ضرور کہتے ہیں کہ ان کی ایک معزز جماعت ہے اور بڑی کام کرنے والی جماعت ہے ان کی عزت کرنی چاہئیے۔کجا وہ حالت کہ حضرت اقدس پر پھر چلائے جاتے تھے اور آپ پر تالیاں بجائی جاتی تھیں۔اور کجا یہ حالت کہ آپ کے خدام کی بھی عزت کی جاتی ہے۔یہ حالت کیسے پیدا ہوئی۔یہ بات کیسے دنیا کے قلوب کے اندر سما گئی اور یہ رنگ کیسے پیدا ہو گیا۔کیا ہم نے وہ بات کہنی چھوڑی دی جو حضرت اقدس پیش فرماتے تھے۔نہیں ہم وہی بات کہتے ہیں۔لوگوں کو آج بھی ہم سے اختلاف ہے۔مگر اس وقت اور موجودہ وقت میں فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت ملائکہ کی فوج نے کام شروع کیا تھا۔اور اب ایک حد تک کام کر چکی ہے۔اس تغیر میں خدا کے قہری نشانوں کا بھی دخل ہے جو کہیں زلزلہ کی صورت میں ظاہر ہوئے۔کہیں طوفان اور طاعون کی صورت میں کہیں انفلوئنزا کی شکل میں اور کہیں قحط اور دبا کے رنگ میں کہیں کسی اور رنگ میں۔یہ نشانات وہ لڑائیاں تھیں جو خدا کی طرف سے اپنے مامور و مرسل کی تائید میں لڑی گئیں۔ان سے بہت سے لوگوں کی دشمنیاں ماری گئیں جن میں نیکی مخفی تھی وہ مان گئے۔کچھ ایسے ہیں جنہوں نے مخالفت چھوڑ دی۔مگر ابھی یہ کام ختم نہیں ہوا۔اور جیسا کہ حضرت اقدس کے الہامات سے پتا لگتا ہے کہ ان حملوں کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا جب تک کہ دنیا میں غالب دین اسلام نہ ہو جائے۔ہاں کبھی خدا ڈھیل بھی دیتا ہے اور وقفہ ڈالتا ہے تاکہ اس عرصہ میں لوگ غور کریں اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔جیسا کہ حضرت اقدس کا الہام ہے۔انی مع الرسول اقوم افطر و اصوم استادان اس الہام پر بنتے ہیں اور کہتے ہیں کیا خدا بھی روزے رکھتا اور افطار کرتا ہے۔مگر اس الہام کا یہ مطلب ہے کہ میں رسول کے ساتھ کھڑا ہوں۔کبھی دنیا پر عذاب لاتا ہوں اور کبھی یہ حالت ہوتی ہے کہ چھوڑی دیتا ہوں اور لوگوں کی فریادوں کو سنتا ہوں۔عذاب کے زمانہ کو روزے کھولنے سے تشبیہ دی۔اور عذاب روکنے کے زمانہ کو روزے رکھنے سے۔کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ عذاب مسلسل آتا جائے بلکہ خدا وقفہ دیتا ہے۔اور پھر عذاب