خطبات محمود (جلد 8) — Page 248
248 - کرتا ہے وہ خوش نہیں ہو سکتا۔ظاہری حکومتیں ایک شخص کو قید کرتی ہیں اس جرم میں کہ اس نے بغاوت کی مگر وہ شخص خوش ہو سکتا ہے اس لئے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی قوم کو آزاد کرانا چاہتا تھا۔وہ اس قید کو عزت کا باعث سمجھتا ہے۔اسی طرح ایک سپاہی جو ملک کی عزت و احترام کے لئے مرتا ہے وہ موت پر بھی خوش ہوتا ہے۔لیکن خدا کا مارا ہوا نہ یہاں خوش ہوتا ہے نہ وہاں۔خدا کا جس پر غضب نازل ہوتا ہے اور جو خدا کی قید میں ڈالا جاتا ہے وہ خوش نہیں ہو سکتا۔خدا کی طرف سے قید یہ ہوتی ہے کہ وہ عزت کو تباہ کر دیتا ہے۔جسم میں ایسی بیماری پیدا کر دیتا ہے جس سے راحت و آرام مفقود ہو جاتا ہے۔اور خوشی سے محروم ہو جاتا ہے۔ہمارے اس زمانہ میں بھی خدا نے اپنا ایک مرسل بھیجا ہے۔یہ اس کا احسان تھا کیونکہ باوجود اس کے کہ لوگ گمراہ ہو گئے۔انہوں نے بدی اختیار کرلی اور خدا کو بھلا دیا مگر خدا نے انعامات کا جو دروازہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کھولا تھا نہ چاہا کہ اس کو بند کردے۔باوجودیکہ لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے رسول کی بے قدری کی خدا تعالٰی نے اپنا ایک مامور و مرسل بھیجا اس مامور و مرسل سے بھی ایسا ہی سلوک کیا گیا جو اس سے پہلے ماموروں سے ہوتا آیا ہے۔لوگوں نے چاہا کہ اسے مٹا دیں اور اس کے سلسلہ کو درہم و برہم کر دیں مگر خدا نے اپنی بات پوری کر کے دکھادی۔جب حضرت مسیح موعود نے دعوی کیا اس وقت آپ کی حالت اور آپ کے ماننے والوں کی حالت بظاہر بہت کمزور تھی۔میری پیدائش دعوے سے پہلے کی ہے اور گو میں نے ابتداء نہیں دیکھی مگر ابتداء کے قرب کا زمانہ دیکھا ہے۔وہ زمانہ بھی کمزوری کا زمانہ تھا۔طرح طرح مولوی لوگوں کو جوش دلاتے تھے اور ہر ممکن طریق سے دکھ اور تکالیف پہنچاتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ حضرت صاحب ایک شہادت میں ملتان تشریف لے گئے۔میں بھی ساتھ تھا اس وقت میری عمر آٹھ سال کے قریب ہوگی۔جب آپ وہاں سے واپس آئے تو لاہور میں کسی جگہ دعوت تھی یا کیا بات تھی یہ مجھے یاد نہیں۔آپ دہلی دروازہ کے اندر گئے اور سنہری مسجد یا وزیر خان کی مسجد کے پاس میں نے بہت بڑا مجمع دیکھا جن کے ہاتھوں میں پتھر تھے۔اور وہ بڑا شور و غوغا کر رہے تھے اس تمام مجمع میں اس وقت کی عمر کے تقاضے کے مطابق مجھے ایک نظارہ خاص طور پر یاد ہے۔ایک شخص جس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا وہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارمار کر شور مچاتا اور ہو ہو ہاہا کر رہا تھا۔عمر کے تقاضے کے ماتحت اس وقت تو اس کی حالت قابل رحم نظر نہ آتی تھی بلکہ قابل تمسخر نظر آتی تھی۔وہ سمجھتا تھا کہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا کام کر رہا ہے۔مگر آج میں جب ان حالات پر غور کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ان کے دو چار کنکروں یا ان کی گالیوں نے حضرت اقدس کا یا آپ کے سلسلہ کا کیا بگاڑ لیا۔حق کے اظہار کے لئے تو لوگوں کی گردنوں پر تلواریں رکھی گئیں۔تب بھی کچھ نہ ہوا۔غرض وہ