خطبات محمود (جلد 8) — Page 234
-234 40 جلسہ سالانہ کے لئے چند ہدایات (فرموده ۹ ر نومبر ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔اگرچہ حلق کی تکلیف اور نزلہ کی زیادتی کی وجہ سے میں کوئی خاص تقریر نہیں کر سکتا۔تاہم چونکہ جلسہ کے دن قریب آگئے ہیں اس لئے باوجود تکلیف کے میں خود ہی خطبہ پڑھنا مناسب سمجھتا ہوں۔پہلی ہدایت جس کے بغیر کوئی مدعا اور مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔یہ ہے کہ اس جلسہ کی غایت اور غرض کو مد نظر رکھا جائے۔جب تک کسی کام کی غرض اور غائت معلوم نہ ہو تب تک اس کام کے لئے انسان پوری کوشش نہیں کر سکتا اس لئے دوستوں کو چاہئیے کہ وہ اپنے کاموں کا حرج کر کے بھی جلسہ میں شامل ہوں۔چونکہ خطبہ تمام قومی ضروریات کے مطابق ہوتا ہے اور وہ چھپ کر باقی دوستوں تک پہنچتا ہے اس لئے میں خطبہ ہی کے ذریعہ قادیان سے باہر کے دوستوں کو بھی خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلسہ میں شامل ہونے کے لئے ہمت اور کوشش کریں اور اپنے کاموں کا حرج کر کے بھی آئیں۔نہ صرف خود آئیں بلکہ اپنے زیر اثر لوگوں کو بھی یہاں لانے کے لئے ابھی سے کوشش کریں۔بہت سے لوگ خیال کرتے ہیں کہ جس طرح ہم احمدی ہیں اسی طرح ہمارے زیر اثر دوست بھی ہیں۔ان کو چلتے وقت اپنے ساتھ لے لیں گے اور وہ فورا چلی پڑیں گے۔حالانکہ وہ لوگ جو ابھی سلسلہ میں داخل نہیں ہوئے جن کے دلوں میں ابھی سلسلہ کی عظمت نہیں ان کو چلتے وقت کہنا کہ چلئے۔حالانکہ وہ کئی کام پہلے سے مقرر کر چکے ہوتے ہیں ایک ناممکن بات کا مطالبہ کرنا ہے۔اس وقت ان کو ساتھ چلنے کے لئے کہنا کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔وہ لوگ کہ جن کو انہی دنوں میں تعطیلیں ہوتی ہیں اور فراغت ہوتی ہے وہ تو دو دو ماہ پہلے اپنے کاموں کی تجویز کر لیتے ہیں۔کوئی کسی کی شادی کا فیصلہ کر لیتا ہے کوئی دوستوں کی ملاقات کا فیصلہ کر لیتا ہے۔کوئی اور کسی کے گھر کے کام کا فیصلہ کر لیتا ہے۔اس وقت ان سے یہ چاہتا کہ وہ اپنے پہلے فیصلے کو منسوخ کر دیں ایک ناممکن