خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 233

233 محبت رہے گی جو اس عرصہ میں پیدا ہو چکی ہے۔وہ ایسی قوم ہے جو اس بات کی عادی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے الگ نہیں ہو سکتی اور ان سے کٹ نہیں سکتی۔اب اگر ہم بھی ان کو چھوڑ دیں تو ان کے اندر اس بات کی عادت پڑ جائے گی کہ وہ اپنی برادری سے الگ ہو جائے اور یہ رواگر ان میں پیدا ہو گئی تو اچھے نتیجے نہیں پیدا کرے گی۔اس لئے اس وقت ضرورت ہے کہ ہمارے مبلغ پہلے سے بھی زیادہ جائیں۔پس قادیان کے لوگوں کو خصوصاً اور باہر کے دوستوں کو عموماً توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اس موقعہ پر پیش کریں اور کم از کم سو (۱۰۰) آدمی وہاں جانے کیلئے تیار ہو جائے۔یہ کام اب ایسی صورت میں آگیا ہے کہ اس کا خاتمہ نظر آنے لگ گیا ہے اگر اس وقت ہم پوری کوشش اور ہمت سے کام لیں تو ہم جلدی کامیاب اور مظفر و منصور ہو سکتے ہیں لیکن اگر اس وقت ہم نے سستی کی تو پہلی کارروائیوں پر پانی پھر جائے گا۔دیکھو وہاں ہمارے قریباً ہزار (۱۰۰۰) آدمی جاچکے ہیں اور ہزاروں روپیہ خرچ ہو چکا ہے۔یہ تمام کارروائی ہماری تھوڑی سی سستی سے ضائع ہو۔جائے گی۔حالانکہ کوئی زندہ قوم اپنے کام کو نہیں چھوڑتی بلکہ جس کام کو شروع کرتی ہے اس کو۔جاری رکھتی ہے۔پس ہر شخص جس کے دل میں اسلام کا درد ہے اس سے میں اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس وقت میدان میں نکلے۔دیکھو اور میدان بھی تبلیغ کے لئے کھلنے والے ہیں۔تم اس وقت اپنے دنیاوی کاموں کا خیال نہ کرو اور دنیاوی روکوں کی طرف نہیں دیکھنا چاہیئے۔اس وقت خدمات دین کی ضرورت ہے۔پس جو شخص اس وقت درد رکھتا ہے وہ خدمت کے لئے تیار ہو جائے اور ہر شخص جو میرے ہاتھ پر بیعت کر چکا ہے اس کو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ در حقیقت بیعت پر وہی قائم ہے جو پورے طور پر ارادہ رکھتا ہے کہ وہ دین کے لئے ہر قسم کا کام کرے گا اور ہر قسم کی قربانی کرے گا۔لیکن بہت ہیں جو ارادہ ہی نہیں رکھتے اور پھر بہت ہیں جو ارادہ تو رکھتے ہیں لیکن جب کام کا وقت آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ یہ خاص طور پر کام کا وقت ہے۔اس میدان میں چند مہینوں میں انشاء اللہ تم فتح پاؤ گے پھر ان قربانیوں کے بعد اور راستے تبلیغ کے کھلنے والے ہیں جن میں تمہارا قدم اور آگے بڑھے گا اور تمہارے بوجھ ہلکے ہو جائیں گے۔(الفضل ۱۹ نومبر ۱۹۲۳ء)