خطبات محمود (جلد 8) — Page 218
218 دینے اور ستانے میں انہوں نے کوئی کمی نہیں کی۔اگر وہ اپنے مولویوں کو روکیں اور مولوی ہمارے مخالفت سے باز آجائیں۔تو پھر وہ ہم سے درخواست کر سکتے ہیں مگر بطور حکم کے نہیں بلکہ بطور التجا کے اور تب ہم دیکھیں گے کہ یہ موقع ایسا ہے کہ ہم ان کی درخواست کو منظور کریں تو منظور کرلیں گے اور اگر دشمن بھاگ گیا ہو گا تو ہم ان کی درخواست کو رد کر دیں گے۔مومن کا ہاتھ ہمیشہ اونچا ہوتا ہے۔نیچا نہیں ہوتا۔اس لئے ہم کسی کی حکومت کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں ہم مذہبی لحاظ سے ایک ہی کی حکومت مانتے ہیں اور وہ خدا ہے اور ہم پر کسی کا کوئی رعب داب نہیں۔سوائے اس کے جو حق لے کر آتا ہے۔پس جو کوئی ہم سے کسی قسم کی درخواست کرنا چاہتا ہے وہ پہلے حق پیدا کرے۔اور پھر ہمارے پاس آئے۔اور جب کوئی حق پیدا کر لیتا ہے تو خواہ وہ سب سے کمزور اور دنیوی لحاظ سے کتنا ہی ادنی درجہ کا ہو۔ہمارے نزدیک سب سے زبردست ہوگا۔اور اس کے علم، مال درجہ کی کمزوری اس کے رستہ میں حائل نہ ہوگی۔اور ہم یہ نہیں کہیں گے کہ چونکہ یہ کسی قوم کا سردار اور لیڈر نہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔اس لئے ہم اس کی بات نہیں سنیں گے۔بلکہ اگر کوئی حق لے کر آئے گا تو دلی خوشی سے ہم اس کا استقبال کریں گے۔ادب کے ساتھ اس سے ملیں گے اور شوق سے اس کی بات کو قبول کریں گے مگر شرط یہی ہے کہ وہ حق لیکر آئے۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ ان لوگوں کو جن کو اس امر کے متعلق دھوکہ لگا ہوا ہو۔خواہ دوسرے لوگوں میں سے ہوں یا احمدی جماعت کے ہوں۔بتاتا ہوں کہ وہ اچھی طرح سن لیں کہ ہم نے نہ کبھی کہا ہے اور نہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم احمدیت کی تبلیغ کلی طور پر چھوڑ دیں گے ہاں ہم نے یہ کہا کہ ملکانہ لوگ جو اسلام کے ابتدائی مسائل سے بھی ناواقف ہیں ان میں تبلیغ احمدیت کے مقصد کو لیکر نہیں جائیں گے اور اس وقت تک ان میں تبلیغ نہیں کریں گے جب تک دشمن کا حملہ دور نہ ہو جائے اور وہ اسلام کے نام پر قائم نہ ہو جائیں۔کیونکہ ان میں تبلیغ کرنے کا یہ موقع نہیں مگر جب دوسروں نے ہمیں چھیڑا۔ہماری خاموشی کو شکست قرار دیا اور لوگوں کو ہمارے خلاف اکسایا اور غلط خیالات ان کے دل میں ڈالے تو پھر ہم کس طرح خاموش رہ سکتے ہیں اب تبلیغ کرنا ہمارا مقصد نہیں کہلا سکتا۔بلکہ دفاع ہے۔پھر میں دنیا کو یہ بھی بتلا دینا چاہتا ہوں کہ صلح یہ نہیں ہوتی کہ اپنا اپنا مذہب چھوڑ دیا جائے۔اس طرح پر نہ صلح ہو سکتی ہے اور نہ قائم رہ سکتی ہے۔صلح کی خاطر صرف انہی باتوں کو چھوڑا جا سکتا ہے جن کا چھوڑنا شریعت نے جائز قرار دیا ہے مگر شریعت یہ جائز نہیں کرتی کہ عقائد کے متعلق کوئی پوچھے۔پھر انسان نہ بتائے۔فروعی مسائل میں اختلاف ہو اور ان میں اگر مصلحتا خاموشی اختیار کی جائے تو حرج نہیں لیکن جو امور عقائد سے تعلق رکھتے ہیں اور ان پر ایمان کی بنیاد سمجھی جاتی ہے ان کو کسی صورت میں بھی چھوڑ نہیں سکتے اور ان کے متعلق OF ہے