خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 217

217 کو ہمارے خلاف اکسایا اور خود ان کو اس طرف توجہ دلائی تو جس طرح مکہ والوں نے مسلمانوں کو چھیٹر کر مکہ پر ان کا قبضہ کرایا۔اسی طرح ان مولویوں نے لوگوں کو اکسا کر ہمارے لئے تبلیغ احمدیت کا رستہ کھول دیا۔چونکہ اسلام کا مسئلہ ہے کہ خود کسی پر حملہ نہ کرو۔اس لئے اگر مکہ والے مسلمانوں پر حملہ نہ کرتے تو مکہ پر مسلمانوں کی حکومت نہ ہوتی اور اگر قیامت تک حملہ نہ کرتے تو مسلمانوں کی حکومت کبھی نہ ہوتی۔سوائے اس کے کہ وہ لوگ مسلمان ہو جاتے۔مگر چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ مسلمانوں کی وہاں حکومت ہو۔اس لئے ابو جہل اور ابو سفیان وغیرہ کفار کے ذریعہ جنہوں نے قوم کو تیار کرایا۔مدینہ پر حملہ کر دیا۔اور اس طرح مسلمانوں کو جائز حق دے دیا کہ وہ مکہ پر حملہ کر کے اسے فتح کرلیں۔ہم اس بات سے ناراض نہیں ہیں کہ مولویوں نے ہمارے راستہ میں روڑے اٹکائے۔ہمارے خلاف لوگوں کو اکسایا کیونکہ ہم نے نہ چاہا تھا کہ جب تک وہ لوگ پختگی سے مسلمان نہ کہلانے لگ جائیں اس وقت تک ان میں احمدیت کی تبلیغ کریں۔اور ہم نے نہ چاہا تھا کہ جب دشمن بالمقابل ہے تو ان مولویوں سے دست و گریباں ہوں۔مگر بعض مولوی صاحبان نے اس کو پسند کیا اور سمجھا کہ کام کرنے کی وجہ سے احمدیوں کی جو شہرت ہو رہی ہے اس سے ان کی آمدنی بڑھ رہی ہے۔حالانکہ ہم کسی سے ایک پیسہ بھی نہیں لینا چاہتے مگر مولویوں نے ہمارے خلاف لوگوں کو بھڑکانا شروع کر دیا۔اور جب انہوں نے ہم سے احمدیت کے متعلق پوچھا تو ہم نے بتایا۔اب بھی اگر کوئی ہمیں روکنا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم ابھی احمدیت کو پیش نہ کریں جب تک دشمن مقابلہ سے بھاگ نہ جائے۔تو اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ اپنے مولویوں کو روکے کہ ہمارے خلاف لوگوں کے دلوں میں وسوسے نہ ڈالیں۔اور انہیں بھڑکانے کی کوشش نہ کریں ورنہ اس سے بڑھ کر نادانی کیا ہوگی کہ اپنے آدمیوں کو تو نہ روکا جائے اور ہمیں رکنے کے لئے کہا جائے۔اگر گھر کے آدمی ان کی بات نہیں مانتے تو ہمیں روکنے کا ان کو کیا حق ہے۔اگر ان میں طاقت ہے، اگر ان کا کوئی رعب ہے، اگر ان کی کوئی بات سنتا ہے تو وہ جائیں اور اپنے مولویوں کو ہماری مخالفت کرنے سے روکیں۔اگر مولوی باز آجائیں تو ہم پھر اقرار کرتے ہیں کہ جب تک دشمن وہاں ہے ہم اس طرز کی تبلیغ نہ کریں گے جس طرز کی مولویوں کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ہمیں کرنی پڑتی ہے۔لیکن اگر مولویوں کو نہیں روکا جاتا جو ان کے اموال سے پرورش پاتے ہیں تو ہم کو وہ کس طرح روک سکتے ہیں۔جنہیں کافر قرار دیتے ہیں۔جن کو اپنے گھروں سے نکالتے اور ہر قسم کے دکھ پہنچاتے ہیں ان کو چاہیے کہ پہلے ان لوگوں کو جن کی خاطر ہمیں یہ دکھ دئے گئے ہیں اور دئے جاتے ہیں روکیں اور اگر وہ ان ملانوں کو نہیں روکتے تو ہم کو روکنے کی کس طرح جرأت کر سکتے ہیں۔جن سے وہ ہر قسم کا بد سلوک کرتے رہے ہیں اور جن کو دکھ۔