خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 20

520 یوں تو ان میں یہ بھی قاعدہ ہے کہ شادی سے ایک ماہ بعد میاں بیوی آپس میں لڑ پڑتے ہیں اور میاں کسی اور کی تلاش میں پھرتا ہے اور بیوی کسی اور کی تلاش میں پھرتی ہے۔وہاں اگر ایک ماہ تک میاں بیوی آپس میں محبت کے ساتھ رہتے ہوئے دکھائی دیں تو بڑا تعجب کیا جاتا ہے اور ہمارے ہاں حقیقی تعلقات جو میاں بیوی میں ہوتے ہیں، ان کی ہوا بھی ان کو نہیں چھو گئی۔مگر قلم در کف دشمن والی بات ہے۔قلم ان کے ہاتھ میں ہے جو کچھ وہ چاہتے ہیں اسلام اور مسلمانوں کے متعلق لکھ دیتے ہیں۔مولوی مبارک علی صاحب نے ایک خط بھیجا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ فن تعمیر کے ایک ماہر نے مسجد بنانے کے لئے سوا دو لاکھ روپے کا اندازہ لگایا تھا کیونکہ اس نے خیال کیا کہ جس قوم نے ہمارے ملک میں مسجد بنانے کا ارادہ کیا ہے وہ کوئی بڑی مالدار قوم ہوگی۔لیکن مولوی صاحب نے اسے کہا کہ اتنا روپیہ ہمارے پاس نہیں تو پھر اس نے پچاس ہزار روپیہ کا اندازہ لگایا۔پانچ ہزار کی زمین اور ۴۵ ہزار روپیہ عمارت پر خرچ آئے گا۔کیونکہ اس کا نقطہ خیال یہ ہے کہ چونکہ یہ ایک بڑا شہر ہے اور امراء کا شہر ہے اس واسطے اس میں بڑی عمارت چاہئیے کہ جس کا لوگوں پر اثر ہو اور لوگ اس کی طرف توجہ کر سکیں۔معمولی عمارت کا ان لوگوں پر اثر نہیں ہو گا۔وہ تو پھر ویسے ہی ہے جیسے ایک پختہ مکان ہو۔اور پھر اس میں کوئی حصہ کچی اینٹوں کا ہو تو وہ معیوب معلوم ہو گا۔خیر اس کے اندازہ کے مطابق پچاس ہزار روپیہ سے مسجد کی عمارت قائم ہو سکتی ہے جو صرف مسجد ہی نہیں ہوگی بلکہ اس میں مبلغین کی رہائش کے لئے بھی مکان ہو گا۔یہ معالمہ میں تمام جماعت کی عورتوں کے سامنے پیش کرتا ہوں۔یہ زمانہ مقابلہ کا ہے ولایت میں تو عورتیں وکالت اور ڈاکٹر کے امتحان تک مردوں کا مقابلہ کرتی ہیں۔مردوں سے برابری بتانے کے لئے۔آگے خواہ وہ کام نہ کر سکیں۔خیر وہ تو اپنی عمر کو ضائع کرتی ہیں۔لیکن ہم کو بھی ایک نیک مقابلہ کرنا چاہئیے۔اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اب عورتیں یورپ میں مسجد بنوائیں۔پہلے لندن والی مسجد میں عورتوں کا دس ہزار چندہ تھا اور شریعت کے لحاظ سے مردوں سے عورتوں کا نصف چندہ ہونا چاہئیے کیونکہ عورتوں کا حصہ شریعت نے نصف رکھا ہے۔اس لئے اب عورتیں پچاس ہزار روپیہ چندہ مسجد احمدیہ برلن کے لئے تین ماہ کے اندر دے دیں۔حضرت مسیح موعود کی پیش گوئی ہے کہ زار روس کا عصا چھینا گیا ہے اور وہ آپ کے ہاتھ میں دیا گیا ہے اور روس کا دروازہ برلن ہے اور اسی دروازہ کے ذریعہ سے روس فتح ہو سکتا ہے۔یوں تو روس میں تبلیغ کرنا تو الگ رہا۔اس میں ہمارا موجودہ حالات کی وجہ سے گھسنا ہی مشکل ہے۔اس میں تبلیغ کا ذریعہ جرمن ہی ہے۔جرمن کے ذریعہ ہم بڑی آسانی سے روس میں تبلیغ کر سکتے ہیں اور عورتوں کے ہاتھ سے