خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 19

19 یوں تو مرد الگ ہوتے ہیں اور عورتیں الگ ہوتی ہیں یا وہ پردہ کے پیچھے ہوتی ہیں۔یا قنات کے پیچھے بیٹھتی ہیں۔جس طرح عورتیں برقعہ پہن کر درس سن لیتی ہیں اسی طرح وہ جمعہ میں قنات یا پردہ کے پیچھے الگ بیٹھ کر خطبہ سنتی ہیں۔چونکہ مرد ہی خطیب ہوتا ہے اس لئے مرد سامنے ہوتے ہیں اور عورتیں پردہ میں الگ ہوتی ہیں۔ورنہ خطیب کے مخاطب تو دونوں ہی ہیں۔عورتوں کے الگ بیٹھنے یا پردہ کے پیچھے بیٹھنے کے یہ معنے نہیں کہ وہ خطبہ میں مخاطب نہیں ہوتیں بلکہ جس طرح مرد اس کے مخاطب ہوتے ہیں اسی طرح عورتیں بھی مخاطب ہوتی ہیں۔یہ خطبہ صرف مردوں کے لئے نہیں ہوتا بلکہ عورتوں کے لئے بھی ہوتا ہے۔پس جو کچھ میں اب کہنے لگا ہوں وہ بلحاظ وقت اور مقام کے بالکل مناسب حال ہے۔وہ کیا بات ہے وہ یہ ہے کہ میں نے سوچنے اور غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ جرمن میں جو مسجد بننے والی ہے۔وہ عورتوں کے چندہ سے بنے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سی عورتوں کی ذاتی جائداد نہیں ہو گی۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عورتوں کی مالی بنیاد زیوارت پر ہوتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مرد کا دخل آمدنی میں ہوتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مردوں میں سے اکثروں کے پاس بوجہ ان کی ذمہ داریوں کے مال نہیں ہوتا۔لیکن عورتوں کے پاس زیور کی صورت میں کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔اسی وجہ سے قحط کے دنوں میں مرد عورتوں سے کچھ لیکر گزارہ کرتے ہیں۔اس لئے یہ نہ کوئی خیال کرے کہ عورتوں کے پاس کہاں سے مال آئے گا۔آخر وہ ہم سے ہی لیں گی۔عورتیں اپنے زیورات وغیرہ سے چندہ دے سکتی ہیں۔یہ علیحدہ بات ہے کہ کسی کے پاس زیادہ ہو اور کسی کے پاس تھوڑا ہو۔خدا کے حضور تھوڑے بہت کا سوال نہیں۔اس کے حضور تو اخلاص کا سوال ہے۔پس میرا یہ منشاء ہے کہ جرمن میں مسجد عورتوں کے چندہ سے بنے۔کیونکہ یورپ میں لوگوں کا خیال ہے کہ ہم میں عورت جانور کی طرح سمجھی جاتی ہے۔جب یورپ کو یہ معلوم ہو گا کہ اس وقت اس شہر میں جو دنیا کا مرکز بن رہا ہے۔اس میں مسلمان عورتوں نے جرمن کے نو مسلم بھائیوں کے لئے مسجد تیار کرائی ہے تو یورپ کے لوگ اپنے اس خیال کی وجہ سے جو مسلمان عورتوں کے متعلق ہے۔کس قدر شرمندہ اور حیران ہونگے۔اور جب وہ مسجد کے پاس سے گذریں گے تو ان پر ایک موت طاری ہوگی اور مسجد بآواز بلند ہر وقت پکارے گی کہ پادری جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ عورت کی اسلام میں کچھ حیثیت نہیں۔وہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں عورتیں بالکل جانور ہیں اور ان کو جانور ہی سمجھا جاتا اور یقین کیا جاتا ہے۔مسلمان عورتوں کو جانور کی طرح سمجھتے ہیں۔اب جب صرف عورتوں کے چندہ سے وہاں مسجد بنے گی۔تو ان کو یہ معلوم ہوگا کہ یہاں کی عورتوں کو تو یہ بھی علم ہے کہ ایسے لوگ بھی دنیا میں ہیں جو ایک بندے کی پرستش کرتے ہیں۔