خطبات محمود (جلد 8) — Page 187
187 لوگوں کی مثال بالکل اسی شخص کی سی ہے۔جو شادی میں نیو نذرا نہیں دینا چاہتا اور اس کے لئے بہانہ تلاش کرتا تھا۔آخر کوٹھے پر چڑھ کر زور زور سے پاؤں مارنے لگا۔گھر والوں نے پوچھا کہ اوپر کون اس پر یہ کہہ کر روٹھ گیا کہ اچھا ہم کون ہوئے اور چلا گیا۔تو ایسے لوگ ہمیشہ بہانہ ڈھونڈتے ہیں کہ کسی طرح ہمیں خدمت دین کا کام جو طوق کی مانند نعوذ باللہ لعنت ہو کر ان کے گلے پڑا ہوتا ہے نہ کرنا پڑے گو مومن کا یہ کام ہے کہ جس طرح وہ اپنے کام کرتا ہے اسی طرح دین کا کام کرے۔میں نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ کسی کی نمبردار کے ساتھ لڑائی ہو جائے اور ڈپٹی کمشنر ا سے بلائے تو وہ نہ جائے۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا نے جو کام تمہارے ذمہ لگایا ہے اسے کسی کے ساتھ لڑائی کی وجہ سے چھوڑ دو۔تمہارا کوئی محبوب ہو اور تم اس کے پاس جا رہے ہو کہ رستہ میں لڑائی ہو جائے تو پھر کیا تم واپس آجاؤ گے پس جب تم اپنے مطلوب کو کسی سے لڑائی ہو جانے پر متروک نہیں کر سکتے تو کسی طرح ہو سکتا ہے کہ تم کسی کے پیچھے نماز پڑھنا اس لئے چھوڑ دو کہ کسی سے تمہاری لڑائی ہو گئی تھی مگر بعض مقتدیوں نے بعض اماموں کے پیچھے نماز چھوڑ دی اس لئے کہ لڑائی ہوئی تھی۔اور بعض اماموں نے نماز پڑھانی چھوڑ دی اس لئے کہ بعض مقتدی اس پر ناراض ہیں۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں جو کسی دوسرے آدمی کی وجہ سے دینی کام کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں جو دینی کاموں میں شرطیں لگاتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ یہ سب باتیں نفس کی خرابی کی علامتیں ہیں اور میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تمہارے کام تمہیں سمجھانے میں میرا اپنا کوئی فائدہ نہیں۔اگر میں تمہیں کوئی کام کہتا ہوں تو تمہاری ہی ترقی اور تمہارے ہی فائدہ کے لئے کہتا ہوں۔اس میں میرا اپنا کوئی فائدہ نہیں۔میرے دل میں یہ نہیں کہ میں صرف اپنی ترقی و عزت چاہوں۔میں یہ نہیں چاہتا کہ تم جاہل رہو اور سارا کام میری طرف منسوب ہو بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تمہاری بھی عزت ہو اور تمہیں بھی ترقی حاصل ہو۔وہ خلیفہ خلیفہ نہیں ہو سکتا بلکہ وہ نبی نبی نہیں ہو سکتا جب تک اس کی یہ خواہش نہ ہو کہ دوسرے بھی اس کی مانند ہو جائیں۔پس میں کہتا ہوں کہ اپنے فرائض کو سمجھو تاکہ ترقی کر سکو۔الفضل ۷ ستمبر ۱۹۲۳ء)