خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 89

23 سورہ کوثر میں اسلام کے چار رکن فرموده ۲ ستمبر ۱۹۲۱ء بمقام آسنور) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سورہ کوثر کی تلاوت کر کے فرمایا۔میں نے غالبا عید کے موقعہ پر یہ سورت پڑھی تھی۔اور گو جو مضمون میں نے اس خطبہ میں بیان کیا تھا وہ اس کے ساتھ ہی تعلق رکھتا تھا۔مگر خاص اس سورۃ کا ترجمہ اور تفسیر بوجہ قلت وقت نہ کر سکا۔اس لئے میں اس جمعہ کے خطبہ میں جو غالباً اس مقام میں ہمارا آخری جمعہ ہو گا۔کیونکہ انشاء اللہ اسی ہفتہ میں جانے کا ارادہ ہے۔اس سورت کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔سورہ کوثر ایک چھوٹی اور مختصر سورۃ ہے۔گو اس کی صرف چار آیتیں ہیں لیکن اگر اس کے مضمون پر غور کیا جاوے تو معلوم ہوتا کہ اس کے اندر اسلام کے چار رکن بیان ہیں۔جن پر اسلام قائم ہے۔اور وہ یہ ہیں (۱) بسم الله الرحمن الرحيم (۲) انا اعطیناک الکوثر (۳) فصل لربک وانحر (۴) ان شانئک هو الابتر یہ چار ٹکڑے چار ستون ہیں جن پر اسلام قائم ہے۔ہر ایک ٹکڑہ ایک ستون کا کام دیتا ہے۔اور جس طرح اگر کسی عمارت کا کوئی ستون نکال لیا جائے تو عمارت گر جاتی ہے۔اسی طرح ان میں سے اگر کوئی حصہ نکال لیا جاوے تو اسلام کی عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔جب تک یہ چاروں باتیں کسی مذہب میں نہ ہوں وہ مذہب سچا نہیں ہو سکتا۔یہ چاروں باتیں اسلام کی سچائی بلکہ اسلام کی فضیلت دوسرے مذاہب پر ثابت کرتی ہیں۔پہلا رکن بسم الله الرحمن الرحیم یعنی ہم اللہ کا نام لیکر شروع کرتے ہیں ہر ایک کام کو۔اس اللہ کا نام لیکر جو رحمن اور رحیم ہے۔یعنی وہ بغیر کسی محنت کے اپنی طرف سے فضل اور انعام کرتا ہے۔خدمت یا محنت کا اس میں کوئی دخل اور تعلق نہیں۔مثلاً آنکھیں ، ناک، کان وغیرہ ہمیں کسی کام کے بدلے میں نہیں ملے۔روٹی تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ محنت سے حاصل ہوتی ہے۔مگر آنکھ کان وغیرہ کسی محنت کے بدلے میں نہیں۔اسی طرح محنت سے کیوں پیدا نہیں ہوئی۔کیونکہ