خطبات محمود (جلد 7) — Page 87
AL त ༡༡ ایک رنگ میں رنگے جاؤ (فرمود ۳۶ ر اگست ۱۹۲۱ء بمقام آسنور) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔جمعہ کے خطبہ کی غرض تو یہی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو ان کے دین کے متعلق ضروری امور سے آگاہ کیا جاوے لیکن آج صبح سے برابر دین ہی کے متعلق باتیں ہو رہی ہیں۔اور نماز جمعہ کے بعد بھی وہی ذکر ہو گا۔اس لئے آج خطبہ لمبا کرنے کی ضرورت نہیں۔صرف اس امر کی طرف آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ جمعہ کا لفظ جمع سے نکلا ہے جس کے معنی اکٹھا ہونا ہیں۔جمعہ کے دن لوگ جمع ہوتے ہیں۔اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومنوں کو تمام روکیں تو ڑ کر آپس میں اکٹھا ہونا چاہیئے جس طرح لوہا اور مقناطیس الگ نہیں رہ سکتے اسی طرح دو مومن بھی الگ نہیں رہ سکتے۔اگر کبھی کوئی تنازع ہو بھی جاوے تو جلد سے جلد صفائی کی کوشش کرنی چاہئیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص پہلے صلح کرے وہ پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل کیا جائے گا۔چنانچہ روایت ہے کہ امام حسن اور حسین میں کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔دراصل امام حسین کی زیادتی تھی۔اور امام حسن حق پر تھے۔دوسرے دن صبح ہی صبح امام حسن امام حسین کی طرف دوڑے جا رہے تھے۔کسی نے دیکھا تو دریافت کیا کہ کیوں جا رہے ہیں۔امام حسن نے جواب دیا۔حسین سے معافی مانگنے۔اس نے کہا کہ زیادتی تو ان کی تھی۔تو جواب دیا کہ اسی لئے تو میں جلدی کر رہا ہوں۔کہ وہ مجھ سے پہلے معافی نہ مانگ لے۔اور اس طرح دنیا میں بھی مجھ پر زیادتی کر کے پھر آخرت میں مجھ سے آگے بڑھ جاوے۔اور میں دنیا و آخرت میں پیچھے رہ جاؤں۔تو جمعہ تمہیں اس بات کی طرف بلاتا ہے کہ تمام کدورتیں دور کرو۔اور سب ایک جاؤ۔جس طرح بنے ہوئے کپڑے کے ایک حصہ پر پیشاب پڑ جائے تو سارا کپڑا ناپاک ہو جاتا ہے۔مگر کھلے سوت میں ایسا نہیں ہوتا۔اور کپڑے کے کسی ایک حصہ کو اللہ کا پیارا بندہ ہاتھ لگاوے تو وہ سارا متبرک ہو جاتا ہے۔بر خلاف اس کے سوت کے جس طرف ہاتھ لگے وہی متبرک ہوتا ہے۔تو اس طرح جمع ہونے میں ہی برکت