خطبات محمود (جلد 7) — Page 85
۸۵ اور۔یاد رہے کہ حقارت اور چیز ہے اور کمزوری اور چیز ہے۔پس انسان اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کو بھی حقیر نہ سمجھے ورنہ کامل نتائج نہیں پیدا ہو سکتے۔لوگ بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں مگر بعض اوقات ایک چھوٹی سی بات ترک نہیں کر سکتے۔جیسے طالوت کا واقعہ قرآن میں ہے۔لوگ جہاد کے لئے مال اپنے بال بچے اور وطن چھوڑ کر چلے اور جان دینے کو تیار تھے۔مگر نہر کا پانی نہ چھوڑ سکے۔اس حکم کی حقارت کر دی۔جس سے ساری قربانی برباد ہو گئی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جوش کی وجہ سے نکلے تھے۔خدا کی خاطر نہیں نکلے تھے ورنہ ایسی نافرمانی نہ کرتے۔پس اگر کامیابی یا ترقی کرنا چاہتے ہو تو جہاں خدا کا حکم آوے اسے کبھی حقیر نہ سمجھو۔رسم و رواج کو جب تک خدا کے لئے چھوڑنے کو تیار نہ ہوگے تب تک نمازیں روزے اور دوسرے اعمال آپ کو مسلمان نہیں بنا سکتے۔جہاں نفس فرمانبرداری سے انکار کرتا ہے۔اس موقع پر حقیقی فرمانبرداری کرنے کا نام اسلام ہے۔اگر کوئی ایسا فرمانبردار نہیں ہے اور رسم و رواج کو مقدم کرتا ہے تو اس کا اسلام نہیں ہے۔یہاں کے رواج جو اسلام کے برخلاف تھے۔ان کی بابت میں پہلے کہہ چکا ہوں۔اب ایک اور بات بتاتا ہوں۔وہ حکم قرآنی یہ ہے کہ عورتوں کے لئے خدا کی طرف سے پردہ مقرر کیا گیا ہے۔جو حالات کے ماتحت تین قسم کا ہے (۱) ان عورتوں کا پردہ جن کو کام کاج کے لئے مجبوراً نکلنا پڑتا ہے۔بغیر باہر نکلے اور روزی کے لئے کچھ کام کرنے یا خاوند کو روزی میں مدد دئے بغیر کنبہ کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ایسی عورتوں کے لئے جائز ہے کہ کام کاج کے وقت ہاتھوں اور پاوں کو اور ماتھے سے لیکر ٹھوڑی اور کانوں کے سامنے تک چہرہ کو نگا کر لیں (۲) اس سے اوپر کے درجہ کی عورتیں جن کو کام کاج کے لئے مجبور آباہر نہیں نکلنا پڑتا وہ تمام جسم کو چھپاویں۔سوائے قد اور چال کے جو مجبوراً ظاہر ہوتے ہیں (۳) تیسرا درجہ امہات المومنین کا ہے کہ وہ اکثر گھر سے باہر نہ نکلا کریں۔یہاں مجھے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں کے گریبان لمبے ہوتے ہیں۔اس طرح چھاتی کا پردہ نہیں رہتا۔یہ خلاف شریعت ہے۔چونکہ یہ گریبان لمبا اس وجہ سے رکھنا پڑتا ہے کہ بچے کو دودھ پلایا جا سکے۔کیونکہ جسم پر صرف ایک ہی کرتہ ہونے کی وجہ سے دامن کو اوپر نہیں اٹھایا جا سکتا۔اس لئے ایک گناہ کے نتیجہ میں (کہ وہ پاجامہ نہیں پہنتیں) دوسرا گناہ پیدا ہو گیا۔یہ قرآنی حکم ہے گو بظاہر چھوٹی بات ہے۔مگر دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لئے جائے اعتراض ہے۔پردہ کے تمام مذاہب مخالف ہیں۔مگر جب ان کو تبلیغ کی جائے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ پہلے اپنے مذہب کو لوگوں میں جو فلاں ملک میں ۹۵ فیصدی آباد ہیں اس کا رواج دیں۔اور اگر نہیں رواج دے سکتے تو یہ حکم ناقابل عمل ہے۔اس طرح پر اسلام جائے اعتراض ٹھہرتا ہے۔پس ہر مرد عورت کو سوچ لینا چاہئیے کہ وہ