خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 84

۸۴ میں اب وہ اصل بتاتا ہوں کہ جس سے ہر شخص اس دعا سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔جتنے شریعت کے احکام ہیں۔ان کا بڑا یا چھوٹا ہونا انسان کی اپنی حیثیت پر ہوتا ہے۔اصل بات اسلام کی یہ ہے۔کہ انسان اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو۔اسی لئے ہمارا نام مسلم رکھا گیا ہے۔مصلی نہیں رکھا گیا نہ موحد۔حالانکہ توحید سب سے بڑا عقیدہ اور صلوٰۃ سب سے بڑی عبادت ہے ہمارا نام حاجی بھی نہیں رکھا اور نہ خیراتی یا صدقہ دینے والا رکھا ہے۔ہدایت پر چلنے والے کا نام مسلم رکھا ہے۔اس لئے اهدنا الصراط المستقیم کے معنی ہیں ہم کو اسلام دے۔یعنی فرمانبرداری کا راستہ۔مگر یہ ملتا درجہ کے مطابق ہی ہے۔ایک اسلام حضرت ابراہیم کا بھی تھا کہ جب ان کو ان کے رب نے کہا۔اسلم تو انہوں نے کہا۔اسلمت لرب العلمین (البقرة : ۱۳۲) اس کا نتیجہ نبوت تھا ایک اسلام وہ تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خاتم الانبیاء بن گئے۔اب آپ کی شریعت قیامت تک چلے گی۔ایک شعثہ بھی اس کا کوئی بدل نہیں سکتا۔اور آپ کی اتباع کے بغیر اب کوئی کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔یہ درجہ آپ کو بھی فرمانبرداری سے ملا۔ایسی فرمانبرداری کہ کسی انسان نے ویسی نہ کی تھی۔ویسا ہی فیض بھی پہنچا۔پس سیدھے راستہ کا نام اسلام ہے یعنی فرمانبرداری۔اور جیسی جیسی فرمانبرداری ہوگی ویسے ویسے نتائج ہونگے۔جس اخلاص کے ساتھ حضرت ابو بکر نے فرمانبرداری کی اس کے مطابق آپ صدیق تھے۔پھر جس اخلاص کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمانبرداری کی اس کے مطابق آپ کو اللہ تعالیٰ نے امتی نبی کا درجہ دیا۔سو اپنے اپنے اخلاص کے مطابق درجے ملتے ہیں۔اخلاص عقائد میں بھی ہوتا ہے اور اعمال میں بھی۔جتنی ترقی کوئی اس میں کرتا ہے۔اتنی ہی ترقی مدارج میں ہوتی ہے۔اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو ہریرہ کا ایک ہی تھا۔فرق صرف اعلیٰ اور ادنی کا تھا۔پس ایک ہی گر ترقی کا ہے اور وہ یہ کہ انسان پورا مسلم ہے۔کوئی خاص حکم مان کر انسان کو نجات نہیں مل سکتی۔بلکہ سب حکموں کو مانکر ملتی ہے۔صرف نماز پڑھ کر نہ صرف روزہ رکھ کر اور نہ صرف حج کر کے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔اگر کوئی شریعت کے کسی حکم کو نہیں مانتا یا اس کو ترک کرتا ہے یا حقیر جانتا ہے تو وہ مسلمان نہیں رہتا۔جب تک تمام احکام کا ادب نہ کرے۔اور کسی ایک حکم کی بھی حقارت کرے اس وقت تک وہ مسلم نہیں ہے۔حکم کوئی بھی چھوٹا بڑا نہیں ہے۔جس حکم کو وہ چھوٹا سمجھ کر اس کی حقارت کرتا وہی اس کے لئے بڑا ہے۔بعض اوقات ایک رسم معمولی ہوتی ہے۔مگر ایک شخص اسے نہیں چھوڑ تا حالا نکہ وہ نماز بھی پڑھتا ہے۔اور سب نیکیاں کرتا ہے۔مگر جب اس نے کہا کہ میں ماں باپ دادا کی یہ رسم نہیں چھوڑتا تب ہی وہ اسلام سے نکل گیا۔خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ باپ دادا اس کے شریک ہوں یا کوئی