خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 80

۸۰ مما نزلنا على عبدنا فاتوا بسورة من مثله وادعوا شهداء كم من دون الله ان كنتم صادقين (البقرہ : (۲۴) مگر یہ کوئی نہ دکھلائے گا کہ شیکسپیئر اور حریری نے اپنی کتابوں کے شائع ہونے سے پہلے ان کو بے نظیر قرار دیا ہے بلکہ کچھ مدت گذرنے کے بعد لوگوں نے ان کو بے نظیر قرار دیا ہے۔حریری نے تو اپنی کتاب کے دیباچہ میں ہی معذرت کی ہے۔کہ میں اس کام کے لائق نہیں بلکہ بدیع الزمان کی اقتدا میں یہ کتاب لکھتا ہوں اور اصل فضیلت بدیع کو ہی ہے جس کی طرز پر میں نے اپنی کتاب لکھی۔۔۔مگر قرآن خود کہتا ہے کہ میں بے نظیر ہوں اس کے مقابل کی کتاب لاؤ۔پس ایک مقصد و مدعا کو لیکر کام کرنے اور بے مقصد کام کرنے میں بڑا فرق ہے ایک کے لئے یہ کام عزت کا موجب ہوتا ہے دوسرے کے لئے ذلت کا۔بے مقصد اور مدعا کام کرنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص دریا میں گر پڑتا ہے۔اس کا پرلے کنارہ پر لگتا دریا کی لہروں کے رحم پر منحصر ہوتا ہے۔جس جگہ چاہیں اسے پھینک دیں۔اب اگر ایسا شخص حسن اتفاق سے ایسی جگہ جا لگتا ہے جہاں سے وہ آسانی سے باہر نکل سکے تو یہ اس کی کوئی بہادری نہیں ہوگی۔وہ شخص جو مقصد قرار دیکر کام کرتا ہے اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی خوبصورت معلوم دیتی ہیں۔ورنہ بڑے بڑے کام بھی قابل تحسین نہیں ہوتے۔بغیر مقصد قرار دینے کے کامیابی ناممکن ہے۔ہو سکتا ہے کہ بغیر مقصد قرار دینے کے بھی کبھی کامیابی حاصل ہو جائے۔مگر ایسی مثالیں شاذونادر کے طور پر ملیں گی۔اکثر مقصد رکھنے والے ہی کامیاب ہونگے۔قرآن نے شروع میں ہی انسان کا مقصد بتلا دیا ہے۔پہلی سورت کہو۔قرآن کا خلاصہ کہو۔ام الکتاب کہو۔یا سورۃ فاتحہ کہو۔اس میں مقصد انسانی کو خوب واضح کر کے بیان کیا گیا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم (الفاتحہ : ۶-۷) اے انسان تیری تمام سعی یہی ہونا چاہیے کہ ہدایت حاصل ہو جاوے اس سورت میں تو مقصد بتلایا ہے۔اور انگلی سورت میں اس کے حصول کے طریقے اور ذرائع بیان کئے ہیں۔مگر باوجود اس کے میں دیکھتا ہوں کہ لوگ سمجھتے نہیں اور بہت کم ہیں جو ان باتوں پر غور کرتے ہیں ان کے اکثر اعمال ایسے ہوتے ہیں جیسے دریا میں کوئی چیز پھینک دی اور وہ دریا کے رحم پر ہو کہ جہاں چاہے اسے پھینک دے پس اگر اس نے کسی کو احمدی بنا دیا ہے تو یہ اس کی خوبی نہیں ہے بہت کم ہیں جنہوں نے حضرت صاحب کو بعد دلائل اور بحث مانا ہو۔بہتوں نے ماں باپ سے سن کر مانا ہے کئی ایک نے دوستوں کے ذریعہ سے بعض نے اس بات کو دیکھ کر کہ حضرت صاحب دوسرے مذہب کا خوب مقابلہ کرتے ہیں۔بہت کم لوگ ہیں جنہوں نے مہدویت اور مسیحیت کے دعوئی کو سمجھ کر مانا ہو۔جب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے کسی کو باغ میں پہنچا دیا ہے تو اس کو بتائیں کہ فائدہ اٹھائے۔اور اگر احمدی ہو کر مسائل طور پر