خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 433

معمول امام نهم ہماری کمزوری کے باعث خدا کے فضل نہ ہم سے چھن جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے قصور معاف کر کے اپنے فضل سے اس اجتماع کو برکات کا موجب بنائے۔ہمیں کام کی توفیق ملے۔اور اس میں اپنی بڑائی کا دخل نہ ہو۔بلکہ ہم اسلام کے مدعا کو پورا کرنے والے ہوں۔میں نے مکانات کے متعلق تحریک کی تھی۔مگر افسر جلسہ کی طرف سے اطلاع ملی ہے۔کہ دوستوں نے اس دفعہ پہلے کی نسبت کم مکان دئے ہیں دوستوں کو چاہیے کہ اس کمی کو پورا کریں۔جو احباب مکان خالی کر سکتے ہیں فارغ کر کے دیں۔اگر مہمانوں کے ٹھہرنے کے لئے جگہ نہ ہو تو پھر مکانات کس کام کے۔پس جس سے جتنا ہو سکے اپنے کان کو خالی کر کے کارکنوں کے حوالے کر دے۔اس طرح جس قدر مکانوں کی ضرورت ہے۔پوری ہو سکے گی۔میں نے دیکھا ہے کہ ابھی شائد کارکنوں نے بھی پوری توجہ نہیں کی۔ہمارے مکان میں مستورات ٹھرا کرتی ہیں۔مکان فارغ ہیں۔مگر میں نے کارکنوں کو اس کے متعلق کچھ کرتے نہیں دیکھا۔کارکنوں کو چاہیے کہ تندہی سے کام کریں یہ خواہش کہ ہمارا نام و نمود ہو ایسا خیال ہے جو خراب کرتا ہے۔اس خیال کے ماتحت بہت لوگ خراب ہو گئے ہیں ہوتے ہیں ہوتے رہیں گے۔تم اللہ سے ڈرو اور اس سے خوف کرو اور اس بات کو مد نظر رکھو کہ اس کا کام کر کے اس سے انعام کے طالب ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور لوگوں سے مدح اور تعریف نہ چاہو۔اللہ تعالیٰ ہمارے کاموں میں علمیت پیدا کرے۔اللہ تعالی تم پر رحم کرے اور مجھے پر بھی رحم کرے۔آمین۔الفضل یکم جنوری ۱۹۲۳ء )