خطبات محمود (جلد 7) — Page 413
سلم اللهم ہمارے ساتھ بحث کر کے فتح نہیں ہوگی۔بلکہ اللہ تعالی کے فضل سے ہمیشہ ان کو ذلت و شکست اور رسوائی ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی وہ ہمارا نام بحث کے لئے لکھ دیتے ہیں اس کی غرض یہ ہوتی ہے۔کہ دیگر ہندوؤں پر اثر ڈال سکیں کہ وہ ہندو مذہب کی طرف سے مقابلہ کر رہے ہیں۔اور اس طرح سے اپنے آپ کو ہندو مذہب کا ہمدرد ثابت کرتے ہیں۔یہ ایسی ہی ہمدردی ہوتی ہے جیسا کہ موچی دروازے کے لوگ اسلامیہ کالج کی کرکٹ کے میچوں میں کیا کرتے ہیں۔ان لوگوں کو یہ جوش ہوتا ہے کہ چونکہ یہ اسلامیہ کالج ہے اور وہ ڈی۔اے۔وی کالج یا کسی اور کالج کے لڑکے ہیں اس لئے ہمیں دین کی خدمت کرنی چاہیئے۔اور وہ اپنے ڈنڈے لیکر چل پڑتے ہیں۔بعینہ اسی طرح یہ لوگ دیگر ہندوؤں پر یہ اثر ڈالتے ہیں کہ ہندو دھرم کی طرف سے ہم لڑتے ہیں اور یہ قدرتی بات ہے کہ اپنا کام کرنے والے سے ہمدردی ہو جاتی ہے۔اسی طرح آریہ لوگ سنا تینوں اور جینیوں کو دکھاتے ہیں کہ ہم تمہارے ہمدرد ہیں۔خواہ ان کو شکست ہی ہو مگر وہ لوگ ان سے ایک قسم کی محبت کرتے ہیں۔اور شکست کو نہیں سمجھ سکتے۔اور اپنی شکست کو سمجھنا بھی مشکل ہے۔شکست کو ہمیشہ غیر جانبدار ہی سمجھا کرتا ہے۔ایسا ہی اگر مسلمانوں کو شکست ہو تو مسلمان اس کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے جب آریوں کو شکست ہوتی ہے اس طرح کی ہمدردی کسی حد تک ہمیں بھی غیر احمدیوں سے حاصل ہو جاتی ہے۔مگر اس سے آریہ بہت فائدہ اٹھاتے ہیں ہمیں اتنا فائدہ حاصل نہیں ہوتا اس لئے کہ مسلمانوں میں وہ بجتی کی روح نہیں جو ہندوؤں میں ہے۔اس لئے ہم اس بارے میں نقصان اٹھاتے ہیں۔اور ہندو سارے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔مسلمانوں کا تو یہ حال ہے کہ کسی احمدی عالم کی تائید کرنا تو الگ رہا اگر ایک اہل حدیث عالم بھی ہندوؤں وغیرہ سے بحث کرنے جائے تو دوسرا اہل حدیث عالم ہی اس کی دشمنی اور مخالفت کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اس لئے ہم بھی جب آریوں وغیرہ سے بحث کرتے ہیں تو غیر احمدیوں سے ہمیں ہمدردی حاصل ہوتی ہے لیکن بہت کم۔کیونکہ ان سے ان کے مولویوں اور ملانوں کو بھی کم ہمدردی ملتی ہے۔پس در حقیقت دنیاوی فوائد میں آریہ جیتے ہیں اور ہم ہارے رہتے ہیں۔اصل چیز ہندوؤں میں تبلیغ کے لئے آریہ نہیں بلکہ وہ کروڑوں ہندو ہیں جو مذہبا " آریوں سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے۔وہ بچے طور پر ہندو مذہب کو مانتے ہیں۔اور ان کی کوئی پولیٹکل غرض بھی نہیں۔وہ خدا سے محبت رکھتے ہیں۔اور غریبوں کی مدد کے لئے خرچ کرتے ہیں۔وہ بحث مباحثوں میں نہیں پڑتے۔اور اس کو غیر ضروری خیال کرتے ہیں۔اس لئے کہ ان کے نزدیک انسان جس مذہب میں پیدا ہوتا ہے وہی اس کی نجات کا موجب ہوتا ہے۔ہمارا فرض تھا کہ ہم ان کو بتاتے۔کیا محض اس لئے ہم ان کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ وہ مباحثوں میں نہیں آتے۔اور ان سے