خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 412

کچھ بھی اثر ان پر باقی نہیں رہتا۔البتہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے وہ اللہ تعالیٰ کو سمجھنے کے لئے جاتے تھے اور ان کے دل پر ایک رعب ہو تا تھا۔مگر جب وہ اس قسم کی تمسخر کی باتیں سنتے ہیں اور اس ذات کے وکیل کی طرف سے سنتے ہیں۔تو ان پر اس کا اثر اچھا نہیں ہوتا۔ایسے لیکچرار بے شک خوش کر لیتے ہیں اور لوگ ان کی تعریف بھی کرتے ہیں۔مگر خدا تعالی کی طرف سے ان کے دل میں سنجیدگی نہیں رہتی۔ایسے واعظ درد کا علاج افیون کھلا کر کرتے ہیں۔اس میں شک نہیں۔افیون سے درد کا احساس کم ہو جاتا ہے۔مگر اس سے اصل درد میں کمی نہیں آتی۔بلکہ اس سے وہ ہمیشہ کے لئے افیون کا عادی ہو جاتا ہے۔ایسا شخص اگر اسلام کی تائید کرتا ہے تو اس میں شک نہیں کہ لفظ اسلام سے اس کی تقریر کے سننے والوں کو نفرت نہیں رہتی مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان لوگوں کو خدا سے بھی محبت نہیں رہتی۔لوگ اس واعظ اور اس کے ہم عقیدہ لوگوں کو برا نہیں کہتے۔مگران میں کوئی روحانی ترقی بھی پیدا نہیں ہوتی۔اس شخص نے فتح حاصل کی۔مگر اس کی فتح اس کے نام کی ہے۔خدا کے نام کی فتح نہیں۔اور روحانیت کے لئے فتح نہیں۔اس بارے میں یہ شخص فتح یاب نہیں ہوا بلکہ ہارا ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص ہے جو سنجیدگی سے کام کرتا ہے۔وہ بولتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی پل بناتا ہے۔گو اس کی تعریف نہیں کی جاتی۔مگر وہ دنیا کے لئے مفید کام کرتا ہے۔اسی طرح گو اس شخص کی تعریف نہیں کی جاتی بلکہ لوگ اس کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔مگر اس کے باوجود اس کی باتوں کا قلب پر اثر ہوتا ہے۔اس کے سننے والے اس کو گالیاں بھی دیتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کا ان کے دل میں ایک رعب پیدا ہوتا ہے۔اس لئے وہ جو کام کرنا چاہتا ہے اس میں کامیاب ہو جاتا ہے۔اس کے بعد میں تبلیغ میں سے بھی ایک خاص حصہ تبلیغ کی طرف توجہ دلاتا ہوں وہ حصہ ہندوؤں میں تبلیغ ہے۔ہماری جماعت پر جس طرح تبلیغ کا کام فرض کیا گیا۔اور حضرت مسیح موعود نے مقرر فرمایا ہے۔اس کو دیکھتے ہوئے یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ہندوؤں میں جہاں تک تبلیغ کا سوال ہے۔نہیں کی گئی۔گو جس قدر بھی ہے اس کا غیر احمدیوں پر اثر ہے مگر آریوں سے مقابلہ ایسا ہی ہے۔جیسا تھیٹر ہے۔کیونکہ آریوں کی غرض حق طلبی نہیں۔ان کی غرض محض یہ ہوتی ہے کہ ان کی قوم کے لوگ ان کی طرف اس طرح توجہ کریں۔اور ان سے ہمدردی کریں چنانچہ کئی جگہ وہ اشتہار شائع کرتے ہیں اور بغیر ہم سے پوچھنے کے لکھ دیتے ہیں کہ احمدیوں سے بحث ہوگی۔کیا کچھ احمدی آریہ ہو گئے ہیں۔جن کی وجہ سے ان کو خیال ہے کہ اگر احمدی مقابلہ پر آئیں گے تو اور احمدیوں کو آریہ اپنے ساتھ ملا سکیں گے نہیں ایسا نہیں۔بلکہ انہی میں سے کئی لوگ ہم لائے ہیں۔پس ان کو