خطبات محمود (جلد 7) — Page 404
۴۰۴ اگر ہمارے احباب یہ باتیں ملحوظ رکھیں تو نہ فطرت مرے گی نہ تبلیغ کے کام میں روک پیدا ہوگی۔بعض نے نیکی اس کو سمجھ لیا ہے کہ خاموش رہیں اور دوسروں سے تعلقات نہ رکھیں یہ نیکی نہیں ایسے لوگ ست اور غافل ہیں۔اور یہ ان کی کمزوری ہے اور نقص ہے۔اس کو دور کرنا چاہئیے۔اور اس کا علاج کرنا چاہئیے۔جو شخص دوسروں سے مل نہیں سکتا وہ بھی بیمار ہے۔اس کو علاج کرنا چاہیے۔اور جو عقائد چھوڑتا ہے وہ بھی اپنے کو ہلاک کرتا ہے۔چاہئیے کہ لوگوں سے ملو اور ایسے تعلقات پیدا کرو کہ وہ تمہارا اپنے آپ کو محتاج خیال کریں۔اللہ تعالی توفیق دے کہ تم لوگوں سے ملوان کی ہمدردی کرد مگر اپنے عقائد کو لوگوں کی خوشی کے لئے قربان نہ کرو۔اور اس طرح اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔اور لوگوں سے ملنا ترک کر کے دین کی تبلیغ میں روک نہ بنو۔جب دوسرے خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا۔آج بھی ایک جنازہ ہے۔گو میں نے اعلان کیا تھا لیکن معلوم ہوا ہے کہ ایک ایسے بھائی جو زمیندار اور مخلص اور جوشیلے احمدی تھے اور جہاں تک میرا ان سے تعلق تھا۔میں نے ان کو اچھا ہی سمجھا تھا۔ان کا نام چوہدری علی محمد تھا۔دنجواں ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے۔فوت ہو گئے ہیں۔ضلع گورداسپور کی جماعتیں قادیان کی جماعت کو چھوڑ کر عملی حالت میں کمزور ہیں عام طور پر جو لوگ سلسلہ میں داخل ہیں ان میں سے کم میں سلسلہ کے لئے غیرت اور دین میں انہماک اور سلسلہ سے واقفیت پیدا کرنے اور سلسلہ کی کتابیں پڑھنے کا خیال ہے ایسے کم ہیں جن پر سلسلہ کی محبت مستولی ہے اور تبلیغ کا جوش ہے۔لیکن مرحوم انہی کم لوگوں میں سے ایک تھا۔مخلص اور جوشیلا تبلیغ میں منہمک رہتا تھا۔میرے نزدیک ان کے فوت ہونے سے جماعت گورداسپور میں کمی آگئی ہے۔اللہ تعالٰی اس کمی کو پورا کرے اور مرحوم میں جو غلطیاں ہوں ان کو اپنا رحم کر کے معاف کرے۔جمعہ کے بعد ان کا جنازہ پڑھوں گا۔(الفضل ۱۶/ نومبر ۶۹۲۲)