خطبات محمود (جلد 7) — Page 403
ہو گیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ لوگوں سے ملنے اور ہمدردی کرنے اور دنیوی تعلقات رکھنے کے یہ معنی نہیں کہ اپنے مذہبی عقائد بھی ان کی خاطر قربان کریں دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہندوؤں سے تعلقات تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک ضرورت کے وقت ایک مشہور ہندو سے جو آپ کا دعویٰ سے پہلے کا واقف تھا۔آپ نے قرض روپیہ منگوایا تھا اور اس نے بھیج دیا۔اسی طرح یہاں کے بعض ہندوؤں سے آپ کے تعلقات تھے۔اور تیس چالیس سال تک آخری عمر میں تعلقات رہے۔ان لوگوں نے آپ کے الہامات سنے اور معجزات کو دیکھا۔ان کو تو نہ مانا مگر تعلقات دنیوی پھر بھی رہے۔کیا ان تعلقات کی وجہ سے آپ نے اسلام کا منشاء چھوڑ دیا۔یا آپ نے اوروں کو بھی اسلام پر قائم کیا۔آپ کے سب مذاہب کے لوگوں سے تعلقات تھے۔مگر ان تعلقات کا مذہبی عقائد پر کچھ اثر نہیں تھا۔کیونکہ دوستی کے تعلقات کا یہ منشاء نہیں ہوتا کہ مذہبی عقائد کی قربانی کی جائے۔دوستی کے لئے مذہب کی قربانی نہیں ہوا کرتی۔پس یہ مت سمجھو کہ اگر غیروں سے دوستی کریں گے تو عقائد مذہبی کی قربانی کرنی پڑے گی۔دوستی کے لئے مذہب کی قربانی کرنا اپنے ساتھ دشمنی کرنا ہے۔دیکھو اگر کسی شخص کا بچہ اس لئے روئے کہ مجھے سکھیا دو تو ماں باپ کی محبت کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ اس کی اس خوشی کو پورا کریں۔کیونکہ اس میں بچے کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے۔یا کوئی دوست اپنے دوست کو کہے کہ تم کنویں میں کود پڑو تو اس بات کا ماننا غلطی ہوگی کیونکہ کنویں میں کودنے سے دوست کا فائدہ کچھ نہیں۔مگر کودنے والے کی جان کا خطرہ ہے۔پس اگر تم اپنے عقیدہ کو چھوڑ دو گے تو اس میں دوسرے کا فائدہ کوئی نہیں ہو گا۔البتہ تمہارا نقصان ہو گا۔یہ بھی مت سمجھو کہ دوستی اسی وقت ہو سکتی ہے جب عقیدہ قربان کیا جائے۔کیونکہ دوستی کے لئے عقیدہ قربان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہاں جو کمزور دل کے لوگ ہیں اور دوسرے پر اثر ڈالنے کی بجائے اس کا اثر قبول کرتے ہیں وہ اپنی فکر کریں۔اگر تم غیروں سے ملوان سے تعلقات پیدا کرو اور اپنے مذہبی معاملات کو قربان نہ کرو۔اور باقی دنیوی معاملات میں قربانی کرو۔ان کی ہمدردی کرو۔تو وہ لوگ نہ صرف خود تم پر زیادتیاں کرنا چھوڑ دیں گے بلکہ اوروں کے مظالم میں بھی تمہارے مددگار ہونگے۔اور تمہارے حقوق کی حفاظت کریں گے۔پس دونوں باتوں کو مد نظر رکھو اخلاق کی رعایت رکھو اور اور مدنیت کو مت چھوڑو۔دنیاوی معاملات میں ہمدردی اور غمگساری کرو۔مصیبتوں میں دوسروں کا ہاتھ بٹاؤ اور نیک مشورے دو۔اور ان سے مشورے لو۔اور مشکلات میں ان کے کام آؤ۔لیکن ان تعلقات کی وجہ سے دین میں خلل نہ آنے دو۔