خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 360

کام صرف اس دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔مگر ہمارا کام ہمیشہ کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے وہ اس زندگی کو پرامن بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر ہم نہ صرف اس زندگی کو پرامن بنانا چاہتے ہیں بلکہ آئندہ زندگی کو پرامن بنانا بھی ہمارا کام ہے۔ان کا کام یہیں ختم ہو جاتا ہے لیکن ہمارا کام یہیں پر ختم نہیں ہوتا۔بلکہ ابدالاباد تک جاتا ہے۔ان کے کام کی حیثیت ایسی ہے جیسے کمانے والے شخص کے مقابلہ میں بچے کے کام کی ہو۔بچہ کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس کی باتوں اور حرکات پر ماں باپ ایک آن کی آن خوش ہو کر ہنس لیں۔لیکن بڑے شخص کے کام پر کنبہ کی زندگی کا مدار ہوتا ہے پس ان کے کام یہیں ختم ہو جاتے ہیں مگر ہمارے کام آگے چلتے ہیں۔اور ہمیشہ کے لئے چلتے ہیں۔اب اگر ان میں سستی ہو جائے تو سمجھ لو کہ ہم کس قدر سرزنش کے قابل ہونگے۔اس کام کے لئے جو اتنا اہم ہے ہمیں بہت بڑی طاقت کی ضرورت ہے اور اگر اس کے لئے پوری طاقت نہ صرف کی جائے تو ممکن ہے کی پہلی محنت بھی ضائع ہو جائے۔اگر محنت کی رفتار یہ ہوگی جو ایک بہتے ہوئے پرنالے کے سامنے ایک تولہ مٹی کی ہوتی ہے تو خواہ کئی آدمی کام پر لگ جائیں وہ پرنالے کو بند نہ کر سکیں گے اور ان کی محنت اکارت جائے گی۔اس لئے ہماری جماعت کا فرض ہے کہ اس کا ہر ایک فرد پوری طاقت اور توجہ سے اس کام میں لگ جائے مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت میں کم لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کام کی اہمیت کو سمجھا ہے۔اور پھر اور بھی کم ہیں۔جنہوں نے سمجھ کر اس کے مناسب طاقت خرچ کی ہے۔ہمارا کام تو اس قسم کا ہے کہ ہماری جماعت کے ہر چھوٹے بڑے عالم غیر عالم امیر غریب بچے بوڑھے ، مرد، عورتیں اس میں لگ جائیں۔دیکھو جس وقت مکان خطرے میں ہو۔تو یہی نہیں کہ بڑے ہی کام میں لگتے ہیں۔بلکہ بچے بوڑھے عورتیں سب کے سب کام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔جب گھر میں آگ لگی ہوئی ہو تو نہ بچہ کے لئے آرام ہوتا نہ عورت اور بوڑھے کے لئے۔بلکہ اس وقت گھر کا ہر ایک فرد کام میں تندہی سے مصروف ہو جاتا ہے۔اور اس صورت میں کامیابی کی امید ہوتی ہے۔اس وقت دنیا میں آگ لگی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس آگ کو بجھائیں۔اگر ہماری جماعت تھوڑی ہے۔اور اگر وہ ساری بھی لگ جائے تو کام کے مقابلہ میں اس کی کوشش تھوڑی ہی ہوگی۔مگر جس کا یہ کام ہے اس کا وعدہ ہے کہ جب ہم اپنی تمام جماعت لگا دیں گے۔تو وہ مدد دے گا۔اور خود اس کام کو درست کر دے گا۔اس کا وعدہ ہے جب تم اپنی طرف سے پوری سعی کرو گے تو باقی سوراخ جو تم بند نہ کر سکو گے وہ خود بند کر دے گا خود کام میں سستی کرو گے تو اس کی طرف سے مدد نہیں آسکتی۔لیکن تم اپنی طاقت خرچ کرو گے تو خدا کی غیرت جوش میں آئے گی کہ جب میرے بندے کمزور ہو کر اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔تو میں طاقت ور ہو کر کیوں نہ ان کے