خطبات محمود (جلد 7) — Page 359
۳۵۹ خدا نے اس جس کو پیدا کر کے انسان کی طاقت کو محفوظ کر دیا ورنہ انسان ہلاک ہو جاتا۔مگر جہاں یہ خطرہ تھا کہ تھوڑے کام کے لئے زیادہ طاقت خرچ کر کے انسان اپنی قوت کو تباہ نہ کرلے۔وہاں یہ بھی خطرہ ہے کہ انسان بڑے کام کے لئے تھوڑی طاقت صرف کر کے اپنے کام ہی کو تباہ کر لیتا ہے۔مثلاً اگر نہر کو بند کرنے کی ضرورت ہو۔اور کوئی شخص اس میں ایک بورا مٹی کا ڈالے تو نہر کا پانی بجائے رکنے کے اس کو بہالے جائے گا۔لیکن اگر ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ ہو جس سے ہم نہر میں یکدم اتنی مٹی ڈال سکیں جس سے تھوڑی دیر کے لئے اس میں روک پیدا ہو سکے۔تو پھر اس وقفہ کے دوران میں زیادہ مٹی ڈال سکتے ہیں۔یا مثلاً پر نالے بہتے ہیں۔اگر ان کو بند کرنے کے لئے تولہ بھر مٹی ڈالی جائے تو اس سے پانی نہیں رکے گا۔خواہ سارہ دن تولہ تولہ مٹی ڈالی جائے لیکن اگر یک دفعہ کافی مٹی ڈال دی جائے تو پانی رک جائے گا۔میں نے اپنی جماعت کو بارہا توجہ دلائی ہے کہ ہمارا کام عظیم الشان حیثیت رکھتا ہے۔اور دنیا کے تمام کاموں سے بڑا ہے۔چونکہ ہم دنیا میں حقیر سمجھے جاتے ہیں۔اس لئے ہمارا بڑا کام دنیا کی نظر میں معمولی ہے اور دنیا کے معمولی کام اہم۔مگر اصل بات یہ ہے کہ کام ہمارا ہی سب سے بڑا ہے۔اگر انگریزوں کا ایک وزیر ایک دن کی بھی چھٹی لے یا کسی کام پر باہر جائے تو اس کے متعلق تمام اخبارات میں تاریں چھپ جاتی ہیں۔اس قدر بڑی اس کی شخصیت سمجھی جاتی ہے۔مگر دیکھنا چاہئیے کہ انگریزوں کے ایک وزیر کا نہیں سب کا کیا کام ہے۔یہی کہ برطانیہ میں ہندوستان اور چند اور ممالک میں جو ان کے ماتحت ہیں امن قائم رکھنا ان کا فرض ہے۔اگر وہ اپنے اس فرض کو پورے طور پر ادا کریں۔اور اس میں کامیاب ہو جائیں تو بھی کیا ہے لوگوں کو تمہیں چالیس یا ساٹھ ستر سال کی زندگی میں امن مل جائے گا وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوں تو ساٹھ ستر سال تک امن ہو گا مگر مرنے کے بعد لوگوں کو جو عذاب ملے گا اس سے ان کو بچانے والا کون ہو تا۔یہ وزیر اور بادشاہ تو خود پکڑے ہوئے ہوں گے۔اور ان سے پوچھا جائے گا کہ ہم نے تم کو عقل دی۔طاقت دی پھر تم نے ہماری بجائے ایک انسان کو کیوں خدا بنایا۔اس وقت تو وہ اپنے کئے کے جوابدہ ہونگے۔دوسروں کو کیا بچائیں گے۔اسی طرح دوسری حکومتیں ہیں مثلا فرانس، امریکہ، جاپان اچھا کام کر رہی ہیں۔لیکن ان کا کام انہی کے علاقوں سے متعلق ہے۔اور اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہے۔مگر ہمارا کام بہت وسیع ہے انگلستان کا کام بھی ہمارے ذمہ ہے۔ہندوستان کا کام بھی ہمارے ذمہ ہے۔امریکہ کا کام بھی ہمارے ذمہ ہے فرانس کا کام بھی ہمارے ذمہ ہے۔جرمنی کا کام بھی ہمارے ذمہ ہے۔روس کا کام بھی ہمارے ذمہ ہے کابل کا کام بھی ہمارے ذمہ ہے۔ایران کا کام بھی ہمارے ذمہ ہے۔چین کا کام بھی ہمارے ذمہ ہے۔غرض ساری دنیا کا کام ہمارے ذمہ ہے پھر ان کا