خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 353

۳۵۳ حسن معاملہ کرتے تھے۔اسلامی فتوحات کے زمانہ میں جبکہ اسلامی لشکر روم کے علاقہ میں گھسے جا رہے تھے ایک موقع ایسا آیا کہ مسلمانوں کی فوج تھوڑی تھی۔اور مقابلہ کے لئے رومیوں کا لشکر بہت زیادہ آگیا اور مسلمانوں کو اپنے مقبوضہ اور مفتوحہ علاقے سے ہٹنا پڑا۔اس وقت مسلمانوں نے کیا کیا؟ آج جبکہ تہذیب و تمدن کے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں۔جب فوجیں کسی علاقہ سے ہٹائی جاتی ہیں تو اس کو تباہ کر دیتے ہیں۔اسی جنگ میں یورپ میں تہذیب کے دعوے کے باوجود یہ حالت تھی کہ اتحادی جب بڑھتے تھے تو علاقہ کو تباہ کرتے تھے۔اور جب ہٹتے تو تباہ کرتے تھے۔اور لوٹ لیتے تھے۔اس لئے کہ جرمن والے اس سے فائدہ نہ اٹھائیں۔اور یہی حال جرمن والوں کا تھا ایک شخص میرے پاس ایک کتاب تحفہ لایا۔اور اس نے مجھے کو بتایا کہ اس طرح لوٹ میں میرے ہاتھ آئی ہے۔اور کہا کہ اور لوگ بھی لوٹتے تھے۔میں نے بھی یہ کتاب لے لی۔میں نے اس کو کہا کہ میں یہ کتاب نہیں لیتا انہی کو دو جو اس کو جائز سمجھتے ہیں۔تو جو لوگ صداقت سے دور ہوتے ہیں وہ اس بات کے باوجود کہ لوٹنا منع ہے۔مفتوحہ علاقہ کو لوٹنے سے نہیں ڈرتے۔انہی کے قاعدے کے مطابق مسلمان جب وہاں سے لوٹ رہے تھے۔تو اس علاقہ کو لوٹ اور آگ لگا سکتے تھے۔لیکن حضرت عمر کے جرنیل اور اسلامی لشکر کے سپہ سالار ابو عبیدہ نے وہ ٹیکس جو لوگوں سے وصول کیا جا چکا تھا یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ یہ ہم نے تمہاری حفاظت کے وعدے پر لیا تھا۔مگر اب چونکہ ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے۔اس لئے ہم واپس کرتے ہیں۔تم یہ لے جاؤ۔اور اس کا معاملہ بھی واپس کر دیا۔کہ یہ ہمارے لئے جائز نہیں۔ان اخلاق کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب مسلمان اس علاقہ سے نکل رہے تھے تو وہ لوگ جو عیسائی تھے۔روتے تھے۔کہ مسلمان ہمیں چھوڑ چلے۔ان کو مسلمانوں کے جانے کا غم تھا۔اور عیسائی بادشاہ کی حکومت آنے اور اپنی ہم مذہب سلطنت کے قائم ہونے کی خوشی نہ تھی۔بلکہ رنج تھا۔۔۔مگر آج جو مسلمانوں کی حالت ہے اس پر سب نفرین کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک امیر کو فرمایا کہ آپ مسلمان نوکر کیوں نہیں رکھتے۔اس نے جواب دیا کہ مسلمان خائن ہوتے ہیں۔اس لئے ہندو ملازم رکھتا ہوں کہ ان میں یہ بات نہیں۔یہ غیروں کی مسلمانوں کے متعلق رائے نہیں۔بلکہ مسلمانوں کی مسلمانوں کے متعلق رائے ہے۔اسی طرح ہندوستان میں تم دیکھ لو کہ ہندو سکھ مل جائیں گے حکومت کے عمال ان کی رعایت کریں گے کیونکہ مسلمانوں کو جب عہدے ملتے ہیں تو وہ اپنی تیزی اور تندی اور بد اخلاقی سے مسلمانوں کو بھیانک صورت میں دوسروں کو دکھاتے ہیں۔