خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 352

۳۵۲ 66 موجودہ افسوس ناک حالت (فرموده یکم ستمبر ۱۹۲۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک چیز ایک تغیر اور ایک عرصہ کے بعد خراب ہو جاتی ہے۔پھلوں میں سے سیب، آم، انار، انگور بهترین ثمرات ہیں۔بادشاہ سے لیکر غریب تک سب ان کو کھاتے اور خوش ہوتے ہیں لیکن جب ایک تغیر کے بعد ان میں کیڑے پڑ جاتے ہیں تو غریب آدمی بھی ان کو کھانا پسند نہیں کرتا۔اس تغیر سے پہلے وہ خوبصورت ہوتے ہیں ان میں خوشبو ہوتی ہے ان میں مٹھاس ہوتی ہے۔لیکن پھر بد صورت ہو جاتے ہیں۔ان میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے کڑویے ہو جاتے ہیں۔پہلے ان کو دیکھنے سے آنکھوں کو سرور ہوتا تھا۔خوشبو سے دماغ کو فرحت ہوتی تھی۔زبان کو مزہ آتا تھا۔ہاتھ خوشی سے پکڑتے تھے مگر تغیر کے بعد انہیں نہ آنکھ دیکھنا چاہتی ہے نہ ناک سونگھنا اور نہ زبان چکھنا اور نہ ہاتھ چھونا چاہتے ہیں اگر وہ ہاتھ کو لگ جائیں تو نجاست کی طرح سمجھے جاتے ہیں اور ہاتھ کو دھو لیا جاتا ہے۔اس تغیر کی وجہ کیا ہوتی ہے۔یہی کہ وہ پھل اپنے اصل سے کٹ چکا ہوتا ہے۔جڑ نے اس کو رزق پہنچانا بند کر دیا ہوتا ہے۔اور اگر وہ درخت کے ساتھ ہی تو بھی خدا کے ایک قانون کے ماتحت ایک مدت کے بعد وہ خراب ہو جاتا ہے۔اور سڑ جاتا ہے۔یہی حال قوموں کا ہوتا ہے۔ایک وقت میں ان پر فخر کیا جاتا ہے۔مگر جب وہ بگڑ جاتی ہیں تو اپنے پرائے ان کو نفرت سے دیکھتے ہیں۔ایک زمانہ میں مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ ان کے کاموں کی دشمن بھی تعریف کرتے تھے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نجد کا ایک وفد آیا تھا کہ ایک صحابی ہمارے ساتھ بھیج دیجئے جو ہمارے فیصلے کیا کرے یہ لوگ عیسائی تھے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی حکومت نہ تھی۔پھر وہ کیوں آئے؟ اس لئے کہ مسلمانوں میں ایسی خوبیاں تھیں۔جو سب کو بھاتی تھیں۔جو ان سے معاملہ کرتا تھا۔خوش ہو تا تھا۔وہ سب کی بھلائی کرتے تھے اور سب سے ہو۔