خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 344

مسیح کے ساتھ کے ہیں تو انہوں نے مسیح پر لعنت کی۔مگر آخر انہوں نے آہستہ آہستہ ترقی کی اور حکومتوں کے ڈرانے کے باوجود انہوں نے خوف نہیں کھایا۔وہی جنہوں نے کہا تھا کہ ہم مسیح کو نہیں جانتے۔انہوں نے کہا کہ مسیح کے صلیب پر چڑھنے میں ہم نے خدا کو دیکھا۔انہوں نے خوشی سے اپنی صلیب کی لکڑیاں اٹھائیں اور پھانسی پر چڑھ گئے۔اور مسیح کا انکار نہ کیا۔اور اپنے عقیدہ کو نہ چھوڑا۔پس جب تک قربانی نہ ہو ترقی نہیں ہوتی۔ابھی کل یا پرسوں کے درس میں آچکا ہے کہ بدر کے موقعہ پر کفار میں سے ایک شخص نکلا اور اس نے صحابہ کو دیکھ کر کفار میں جاکر کہا کہ ان سے نہ لڑو۔میں ان کے چہروں میں دیکھتا ہوں کہ یہ مرنے یا مارنے کی نیت سے آئے ہیں۔واپس ہونے کی نیت سے نہیں آئے۔۲؎ یہی چیز تھی جو ان کو کامیابی کی طرف لے گئی۔اسی جنگ کے متعلق حضرت عبدالرحمن بن عوف کا واقعہ آتا ہے کہ ان کے ارد گرد دو انصاری لڑکے تھے۔انہوں نے جب دیکھا۔تو وہ کہتے ہیں کہ میرا دل بیٹھ گیا۔کیونکہ میرے دائیں بائیں تو کوئی ہے نہیں۔ہم تو چاہتے تھے کہ ان فلموں کا بدلہ لیں جو کفار نے آنحضرت اور مسلمانوں پر کئے ہیں۔میں ابھی اس خیال میں تھا کہ ایک لڑکے نے آہستہ سے میرے بازو کو ہلا کر کہا چا۔ابو جہل کونسا ہے بنا ہے کہ اس نے رسول اللہ پر بڑے ظلم کئے ہیں۔میں اس کو قتل کرنا چاہتا ہوں۔ابھی میں اس کو جواب نہ دے سکا تھا کہ دوسرے نے اسی طرح پوچھا تاکہ دوسرے کو پتہ نہ لگے۔میں نے اشارہ کیا اور وہ باز کی طرح جس طرح وہ چڑیا پر جا پڑتا ہے۔ابو جہل پر جا پڑے۔اور اس کو زخمی کر کے گرا دیا۔ابو جہل کے بیٹے عکرمہ جو ابھی تک مسلمان نہ ہوئے تھے انہوں نے دیکھا اور ایک کا ہاتھ کاٹ دیا۔مگر وہ اپنا کام کر چکے تھے۔حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میرے دل میں یہ خیال نہ تھا جو ان بچوں کے دل میں آیا کہ لشکر کے سردار پر حملہ کروں۔۳؎ پس جب تک کوئی قوم مرنے کو نہ نکلے وہ زندہ نہیں ہو سکتی۔کیونکہ کوئی زندگی موت کے بغیر نہیں۔جب تک دانہ مٹی میں نہ ملے شگوفہ نہیں نکالتا۔بچہ پیدا نہیں ہو تا جب تک رحم کی تاریکیوں میں سے نہ ہو گزرے۔پس قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ ایک موت اختیار نہ کرے۔تم میں سے چھوٹے اور بڑے۔پڑھے ہوئے یا بے پڑھے۔امیر ہوں یا غریب وہ خواہ کسی طبقہ کے ہوں۔اگر وہ اپنے دل میں سچائی کو محسوس کرتے ہیں۔اور انہوں نے خدا کا جلوہ دیکھا ہے تو جب تک اس کو دنیا میں پھیلا نہیں لیتے۔جب تک یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ ہم خدا کے لئے مر گئے۔اور ہر ایک چیز کو قربان نہیں کرتے اور اس چیز کو قربان نہیں کرتے جو بڑی سے بڑی ان کے نزدیک ہے۔اور ہر ایک چیز کو اس راہ میں حقیر نہیں سمجھ لیتے تو کامیابی کی امید نہیں رکھ سکتے۔اور نہ خدا