خطبات محمود (جلد 7) — Page 331
وغیرہ جنگیں ہیں اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے منکر قیامت تک رہیں گے۔اور مسیح کے منکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی منکر ہیں۔اس سے کیا ثابت ہوا۔یہی کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے کبھی سستی نہ کی جائے۔بلکہ اس کے مقابلہ میں ہمیشہ ڈٹے رہنے رہنا چاہئیے۔ہم دیکھتے ہیں کہ مکانوں جائدادوں کی حفاظت کے لئے لوگ جنگ کرتے ہیں۔لیکن دین کی حفاظت ان چیزوں سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔مگر اس کی حفاظت نہیں کی جا سکتی جب تک آپس کے تنازعات کو نہ چھوڑ دیا جائے۔کیونکہ دو طرف کے توپ خانہ سے سلامتی مشکل ہوتی ہے کہ ایک طرف گھر میں سے حملہ آور ہوں اور مقابلہ میں دشمن ہو۔پس اگر دشمن کے مقابلہ میں کامیابی کی توقع ہے تو آپس کے تنازعات کو چھوڑ دو۔ورنہ فرماتا ہے۔فتفشلوا فشل" کے تین معنی ہیں۔(۱) ست ہو جانا (۲) کمزور ہو جانا (۳) بزدل ہو جانا۔اس لئے اس کے معنی ہوئے کہ اگر تم آپس میں تنازع کرو گے تو تم میں کسل اور سستی آجائے گی۔اور دوسرے تم میں بزدلی پیدا ہو جائے گی۔اور تیسرے تم میں ضعف ہو جائے گا۔قاعدہ ہے کہ جب آپس میں تنازع ہو تو دین کے کام میں لوگ ست ہو جاتے ہیں۔اور پھر دشمن کا مقابلہ نہیں ہو سکتا ہے دوسرے مقابلہ جوش سے ہوتا ہے جب جوش آپس کے جھگڑوں میں نکل گیا۔تو غیروں کے مقابلہ کے لئے جوش کہاں سے آئے گا۔اور آپس کی لڑائی سے ضعف اس طرح آجاتا ہے کہ جب پانچ مخصوں میں جنگ ہوگی تو دو ایک طرف ہونگے اور تین ایک طرف۔پھر دشمن کے مقابلہ میں ضعف پیدا ہونا ضروری تھا۔اور بزدلی خون کے جلد جوش میں آجانے سے بھی ہوتی ہے۔جس شخص کو فوراً غصہ آجائے اور جھگڑے کی اس کو عادت ہو جائے جیسا کہ بعض لوگوں کو سر کھجلانے یا انگلیوں سے پٹاخے نکالنے کی عادت ہوتی ہے۔تو اس میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے۔جو لوگ زبانی لڑائی کے زیادہ عادی ہوتے ہیں ان میں شجاعت نہیں رہتی۔مثل مشہور ہے کہ شیر لیٹا ہوا تھا اس پر چوہے کھیل رہے تھے۔شیر نے کہا کہ لڑوں کس سے کیا چوہوں سے۔اسی طرح جو شخص معمولی باتوں پر لڑتے ہیں وہ بڑے دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔پس فرمایا آپس میں تنازع نہ کرو۔تم میں کسل آجائے گی۔دین کے کام سے غافل ہو جاؤ گے۔اور ضعف پیدا ہو جائے گا۔پھر فرمایا تذهب ريحكم ریح کے بھی تین معنی ہیں (۱) قوت (۲) نصرت (۳) رحمت۔پس تذهب ريحکم کے معنی ہوئے۔تمہاری قوت چلی جائے گی۔اب جو دشمن تمہاری طاقت کو محسوس کرتا ہے یہ بات نہ رہے گی۔(۲) تمہاری محبت کم ہو جائے گی تو تم پر جو رحمت ہوتی ہے۔وہ کم ہو جائے گی۔یا تم جو کسی پر رحمت کرتے ہو وہ نہیں رہے گی۔تیسرے