خطبات محمود (جلد 7) — Page 320
سورہ فاتحہ میں اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ خدا مل جائے۔دین کے قبول کرنے سے مقصد خدا ہے۔اس کے لئے کوشش ہونی چاہئیے۔اسلام نے وہ طریق بتا دیا ہے کہ اس ذریعہ خدا مل سکتا ہے۔اسلامی نماز کی بڑائی اس کی تکلیف کے باعث نہیں بلکہ اس کی خوبی کے باعث ہے۔روزے کو شرف بھوک سے نہیں بلکہ اس کی خوبی سے ہے۔صدقہ کی یہ غرض نہیں کہ انسان سے مال دلوانا مقصود ہے۔بلکہ خدا نے اپنے ملنے کا اسے ذریعہ قرار دیا ہے۔اگر اسلامی عقائد کو بزرگی اور عظمت حاصل ہے تو اس لئے کہ ان سے خدا مل جاتا ہے۔اگر اصل غرض کو مد نظر نہ رکھیں جو ان امور سے مقصود ہے تو تمام کوششیں ضائع ہوں گی۔نعبد چنانچہ اللہ تعالٰی نے پہلے تو بتایا کہ خزانہ یہ ہے الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحیم مالک یوم الدین پھر اس قیمتی خزانہ اور پھل دار باغ کے حصول کا ذریعہ بتایا۔وہ یہ کہ نوکر ہو جاؤ۔تو اس خانہ اور اس باغ کے اندر جا سکو گے۔اور اس کے لئے کہا کہ ایاک اگر خزانہ لینا چاہتے ہو تو پہلے غلاموں میں بھرتی ہو جاؤ۔کیونکہ غلاموں کے لئے آقا کے خزانوں اور باغوں میں جانا منع نہیں ہے۔اور غلام اور نوکر کو بھی آقا کی چیز کے استعمال کا ایک حد تک حق حاصل ہوتا ہے۔یہ بھی ایک شرکت ہوتی ہے۔مگر پھر اس سے اگلا مقام بتایا کہ ایاک نستعین غلام ہونے کے بعد مانگتا ہے۔مگر مانگنا بھی آسان نہیں۔کیونکہ جو خدمت کرتا اور آقا کو خوش کرتا ہے۔اس کو مانگنے کا بھی حق حاصل ہوتا ہے۔ایک لطیفہ ہے ایک شخص کو اس کی ماں نے کہا کہ جاکر ملازمت کر اور جب تیرا آقا تجھ سے خوش ہوا کرے تو اس سے انعام مانگا کر۔بیٹے نے پوچھا کہ میں کیوں کر سمجھوں کہ آقا خوش ہے۔ماں نے کہا کہ جب وہ ہے تو سمجھ لینا کہ وہ خوش ہے۔چنانچہ وہ گیا اور ایک جگہ اس کو ملازمت مل گئی۔ایک دن رات کے وقت بارش ہو رہی تھی آقا نے کہا جاؤ دیکھو کیا اس وقت بارش ہو رہی ہے۔یا بند ہو گئی ہے۔ملازم نے کہا کہ ہو رہی ہے۔آقا نے کہا تجھے کیونکر معلوم ہوا اس نے جواب دیا کہ ہلی باہر سے آئی ہے۔اور میں نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا ہے۔اس سے معلوم ہوا۔آقا نے کہا اچھا چراغ بجھاؤ۔نوکر نے کہا۔کہ حضور منہ پر کپڑے لے لیں۔اندھیرا ہو جائے گا۔آقا نے کہا۔کہ کواڑ بند کردو۔ملازم نے کہا حضور دو کام میں نے کئے ہیں۔ایک جناب خود کر لیں۔آقا ہنس پڑا۔اور اس نے فور آ کھڑے ہو کر کہا حضور انعام دیجئے۔اس طرح کی خدمت کرنے سے انعام نہیں ملتا۔بلکہ بچے دل سے اور صحیح معنوں میں خدمت کرنے سے انعام کا مستحق ہوتا ہے۔اور عمدہ خدمت کرنے کے بعد غلام اور ملازم آرزو مند ہوتا ہے کہ اس کو انعام ملے۔آگے مانگنے کی دو چیزیں ہوتی ہیں۔ایک مال و دولت اور ایک آقا کی رضا مندی۔عبودیت کے