خطبات محمود (جلد 7) — Page 319
۳۱۹ لڑائی تو ترانے کے لئے ہوا کرتی ہے۔مذہب کے لئے جو لڑائی ہو رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذاہب کے پاس کوئی قیمتی چیز اور خزانہ ہے۔مذاہب کی لڑائی کسی نبی کے محض مانے یا نہ ماننے کے لئے نہیں ہے۔بلکہ اصل مذاہب کی لڑائی یہ ہے کہ خدا ہمارا ہے۔خدا ایک خزانہ ہے۔جو ختم نہیں ہوتا۔انسان جس قدر اس کا قرب اور اس کی رضا چاہنے کی کوشش کرے۔اس کو کرنا چاہئیے۔بندے پر اس کے احسانات ختم نہیں ہوتے۔ہر ایک مذہب کہتا ہے کہ خدا ہمارا ہے۔اس پر لڑائی ہے سوائے اس کے اور کوئی چیز لڑائی والی نہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمیں فخر ہے تو اس لئے کہ آپ نے ہمیں اس خزانہ کا پتہ دیا۔اور وہ ذریعہ بتایا کہ وہ خزانہ تمہیں اس طرح مل سکتا ہے۔اگر ہم نے وہ خزانہ حاصل نہیں کیا تو پھر یہ جھگڑا فضول ہے۔کیا کوئی دانا اس موتی پر بھی لڑے گا۔جو سمندر کی تہ میں ہو۔وہ موتی ہمارا ہے نہ کسی اور کا وہ تو دونوں کے قبضہ سے باہر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ موتی ہمیں دیا۔اگر ہم اس موتی کو حاصل نہ کرین اور دنیا سے لڑیں تو ہماری حالت کچھ اچھی نہیں۔خزانہ کا دروازہ بند تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس کا رستہ بنایا۔اور پھر دروازہ کھول دیا۔لیکن اگر ہم اس خزانہ کو نہیں لیتے تو ہمارے خالی دعوئی سے کچھ نہیں ہوتا۔تمام دنیا کے مذاہب کہتے ہیں کہ خدا ان کے ذریعہ ملتا ہے۔ہندو کہتے ہیں کہ خدا ان کے ذریعہ ملتا ہے۔اور عیسائی کہتے ہیں کہ خدا عیسائیت کے ذریعہ ملتا ہے۔اور سکھ کہتے ہیں کہ خدا سکھ مذہب کے ذریعہ ملتا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ خدا اسلام کے ذریعہ ملتا ہے۔اگر باوجود اس کے پھر بھی ہماری حالت میں کوئی تغیر نہیں۔اور ہمیں خدا نہیں ملا تو کیا۔خوشی کی بات ہے۔اصل خوشی تو اس میں ہے کہ خدا مل جائے۔اس لئے مومن کا یہ کام ہے کہ وہ اس کوشش میں لگا رہے کہ اس کو خدا مل جائے۔مومن میں اور دوسروں میں بھی فرق ہوتا ہے۔کہ مومن پر خدا ظاہر ہو جاتا ہے اور دوسرے دعوئی ہی کرتے رہتے ہیں۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے ذریعہ خدا ظاہر ہوا۔آپ نے پتہ دیا۔اور اس خزانہ کا دروازہ کھول دیا۔لیکن یہ کوئی خوشی کی بات نہیں کہ خدا کا ہمیں پتہ لگ گیا۔بلکہ اصل خوشی اس میں ہے ہے کہ خدا مل جائے۔اگر دروازے بند ہوں اور کسی شخص کو خزانہ نہ ملے تب بھی وہ محروم ہے۔اور اگر کھلے ہوں اور وہ نہ لے تب بھی محروم۔اگر کوئی شخص پیاسا ہو اور اس کو پانی نہ ملے تو وہ تشنہ ہے۔اور اگر پانی موجود ہو اور نہ پیئے تب بھی پیاسا ہی ہے۔اور اس کی پیاس میں کچھ بھی کمی نہیں آتی۔دونوں کی تکلیف ایک ہے۔پس اسی طرح جس شخص کو خدا نہیں ملتا اس کے لئے خوش ہونے کا مقام نہیں۔لیکن جس کے لئے دروازے کھلے ہیں اور جس کو پتہ ہے کہ خدا یوں مل سکتا ہے اور وہ نہیں ملتا تو اس کی بھی وہی حالت ہے۔