خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 302

55 ایمان سرچشمہ راحت ہے (فرموده ۱۶ جون ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دنیا میں انسان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ آرام پائے، خوش رہے۔وہ یہی کوشش کرتا ہے کہ اس کو کامیابی حاصل ہو۔خواہ دنیاوی کام ہوں یا دینی ان سب سے اصلی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کو راحت ملے۔طالب علم محنت کرتے ہیں جس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ہم کو ذہنی اور مالی طور پر راحت حاصل ہو جائے کیونکہ ایک خوشی انسان کو علم سے ہوتی ہے۔جب انسان کو نئی بات معلوم ہوتی ہے تو خوش ہوتا ہے۔یہ مادہ اللہ تعالٰی نے اس لئے رکھا ہے کہ علم کی طرف توجہ کریں۔اگر یہ مادہ نہ ہوتا تو توجہ نہ ہوتی۔دیکھو یہ خواہش انسان میں کہاں تک ہوتی ہے کہ جہاں دو آدمی باتیں کر رہے ہوں وہاں تیسرا کان لگا کر سننا شروع کر دیتا ہے تو انسان حکومت چاہتا ہے راحت کے لئے عزت چاہتا ہے راحت کے لئے ان سب کاموں میں ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ راحت ملے۔یہ مقصد سب سے بڑا ہے۔مگر اس میں بھی درجات ہوتے ہیں۔جس سے زیادہ خوشی مل سکتی ہے انسان اس کو زیادہ چاہتا ہے۔روپیہ سے خوش ہوتا ہے کیونکہ اس سے وہ چیز ملتی ہے جس سے اس کو راحت ملتی ہے لیکن پونڈ سے زیادہ محبت ہوگی۔کیونکہ اس سے روپیہ کی نسبت راحت رساں چیز زیادہ مل جاتی ہے۔یا روپیہ سے زیادہ محبت ہوگی بہ نسبت امر کے کیونکہ روپیہ سے آمر کی نسبت انسان کو راحت پہنچانے والی چیز زیادہ ملے گی لیکن اگر روپیہ اور پونڈ کی قیمت ایک ہوتی تو پونڈ کی روپیہ کی نسبت زیادہ قدر نہ ہوتی۔پونڈ سے روپیہ کی نسبت اسی لئے زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ اس کی قیمت زیادہ ہے۔یہ بات ہر ایک انسان میں ہے کہ وہ کم اور زیادہ کو سمجھتا ہے۔ایک بچہ کے سامنے دو چیزیں ایک طرف رکھ دو۔اور ایک دوسری طرف تو وہ دو چیزوں ہی کی طرف لپکے گا۔اس بات کو جاہل سے