خطبات محمود (جلد 7) — Page 300
بہت سی باتیں جن کو عقل کی باتیں کہا جاتا ہے۔ممکن ہے کہ ایک وقت ان کو بے وقوفی کی باتیں اور غلط باتیں کہا جائے۔اور عقل سے ہی ان کو رد کیا جائے۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ دینی باتوں کو عقل سے نہ مانو اور بے عقلی کی باتوں کو مانو۔بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ تم اپنے ایمان کی بنیاد محض دلائل عقلی پر مت رکھو۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تم ایک بات کو دلیل سے مانو اور دوسرے دن تم ایک ایسی دلیل سنو جو تمہیں اس کے خلاف معلوم ہو تو تم اس کو چھوڑ دو۔میرا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی بنیاد ودلائل سے گذر کر مشاہدہ پر ہونی چاہئیے۔اگر ایک شخص نے اپنی ذات کے متعلق دیکھا ہو اور دوسرے بیسیوں آدمیوں کے لئے دیکھا ہو کہ ان کو ایک خاص قسم کے بخار میں کونین فائدہ دیتی ہے اور اس کے استعمال کرنے سے بخار اتر جاتا ہے۔مگر بعض بخاروں میں فائدہ نہیں دیتی۔اس سے وہ کونین کے فائدہ سے انکار نہیں کر دے گا۔کیونکہ اس نے خود تجربہ کر کے اس کے فائدہ کے مشاہدہ کر لیا ہے۔اسی طرح اگر ایک شخص کا ایمان عرفان کے درجہ پر ہو تو اس کے لئے کوئی دلیل ایمان سے ہٹانے والی نہیں ہو سکتی۔پس جس شخص کو اللہ تعالیٰ کی رویت حاصل ہو۔اور وہ کوئی مادی چیز نہیں۔کہ اس کو دیکھا جائے بلکہ اس کے فعل کا دل پر اثر ہو اور دل اس کو محسوس کرے۔وہ خدا کا ہو جائے۔اور خدا اس کا ہو جائے اور اس کا نفس اس کے ماتحت ہو جائے تو اس کا ایمان تمام خطروں سے نکل جاتا ہے۔اور کسی عزیز رشتہ دار کی جدائی اس کے لئے ایمان کو متزلزل کرنے والی نہیں ہوتی پس جب ایمان حاصل ہو جائے غیر المغضوب عليهم ولا الضالین کا مقام بھی حاصل ہونا چاہیے۔یعنی مشاہدہ کا مقام ہو۔کہ وہاں سے کوئی دلیل کوئی تکلیف اس کو نہ ہٹا سکے۔آگ دلیل سے مانی ہوئی ہو۔تو اس کا انکار ہو سکتا ہے۔لیکن اگر آگ میں ہاتھ ڈالا ہو۔اور وہ جل گیا ہو۔اس پر کھانا پک گیا ہو۔بجھائی ہو تو بجھ کر کوئلے ہو گئے ہوں۔اس قدر مشاہدات کے جمع ہو جانے سے آگ کا کیسے انکار ہو سکتا ہے۔اس کے مقابلہ میں کتنے ہی دلائل ہوں۔مگر ایسا مشاہدہ کرنے والا آگ کے وجود کا اور اس کی تاثیر کا منکر نہیں ہو سکتا۔اسی طرح جب ایمان مشاہدہ کے درجہ تک پہنچ جائے۔تو پھر اس کو مال و دولت۔علم اور عزت رشتہ داری اور دوسرے ہر ایک قسم کے تعلقات دین سے نہیں پھرا سکتے وہ ایسا محفوظ ہو جاتا ہے جیسا کہ بچہ ماں کی گود میں ہوتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ اهدنا الصراط المستقیم پر ہی کفایت نہ ہو۔بلکہ غیر المغضوب عليهم ولا الضالین پر بھی عمل ہو۔یعنی ایمان کی حفاظت کی جائے۔کوئی عظمند پسند نہیں کرے گا کہ بڑی جدوجہد اور سخت تکلیف کے ساتھ موتی نکالے۔اور نکال کر کتے کے آگے ڈال دے۔اگر کوئی ایسا کرے۔تو وہ بیوقوف ہوگا۔تم نے ہر ایک قسم کے اعتراض سنے۔اور ان سب کو