خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 290

۲۹۰ ہمیں مشکلات بھی در پیش ہونگی۔مگر ان کا نتیجہ کامیابی ہو گا۔کیونکہ جیسا کہ کہا گیا ہے۔ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است پس اب اگر سلسلہ کے لئے مشکلات برداشت کرنی پڑیں۔تو ہمیں پہلو تہی نہیں کرنی چاہئے۔بلکہ ہمیں اپنی قربانیوں سے اس آواز پر لبیک کہنا چاہیے۔کیونکہ تم نے آواز میں دیں۔دعائیں کی ہیں کہ خدایا ہم تجھ سے ملنا چاہتے ہیں اور ان دعاؤں کی قبولیت کے لئے الہام کی ضرورت نہیں۔بلکہ نیکیوں کے راستے بتلانا بھی ہے۔سو ان دعاؤں کے بدلے میں تمہیں نیک کام کرنے کے مواقع ملیں گے۔اس لئے تم ہوشیار ہو جاؤ اور چوکس ہو جاؤ۔تا ایسا نہ ہو کہ وہ مواقع آئیں اور تم انہیں غفلت میں گذار دو۔ایسا نہ ہو کہ تمہاری مثال اس شخص کی مانند ہو جو اپنے ساتھی کو پکارتا ہے لیکن جب وہ آتا ہے تو یہ وہاں سے ہٹ جاتا ہے یا اس کی مانند ہو جو اپنے دوست کے دروازے پر دستک دیتا ہے مگر جب اس کا دوست آتا ہے تو یہ وہاں سے ہٹ کر دوسرے مکان کے دروازے پر چلا جاتا ہے یا سو جاتا ہے۔تم نے خدا کی تلاش شروع کی ہے۔اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا ہے۔اور خدا کی نسبت کیا ہے۔تم نے روزے رکھے اور راتیں جاگ کر گزاری ہیں۔اس لئے کہ تمہارے لئے خدا کے قرب کی راہ کھل جائے تم نے آوازیں دی ہیں۔اب تمہارا فرض ہے کہ نیکی کے جو مواقع تمہارے لئے بہم پہنچیں ان سے فائدہ اٹھاؤ خدا کے بندوں سے حسن سلوک کرو۔تبلیغ کے لئے اگر مال کی ضرورت ہو تو دو۔دین کے لئے اگر وقت کی ضرورت پیش آئے تو دو۔اگر جان کی ضرورت پڑے تو دو۔اور اگر دین کی خاطر عزت بھی قربان کرنی پڑے تو کرو۔اور ہر ایک نیک تحریک کو قبول کرو۔جب یہ حالت ہوگی تو کیا ہو گا؟ خدا کا قرب حاصل ہو گا۔یہ انتہائی قرب نہیں۔قرب کے بھی مدارج ہیں۔خدا تعالیٰ کی ذات بے انتہا ہے۔اس لئے اس کے قرب کی راہیں بھی کھلتی رہتی ہیں۔یہ قرب الہی جو اس آیت میں بتایا گیا ہے۔پہلا مقام قرب ہے۔اس کے بعد شک اور تردد کی حالت جاتی رہتی ہے۔بلکہ اس کے بعد تسلی اور اطمینان کی زندگی ہوتی ہے۔جب اس پر چلو گے۔تو اور زیادہ سے زیادہ اس کے قرب کی راہیں کھلیں گی۔یہ اطمینان کا رستہ ہمیں رمضان میں بتایا گیا ہے۔اس پر چل کر فائدہ اٹھاؤ۔تا اطمینان کی زندگی پاؤ۔الفضل در جون ۱۹۲۲ء) ان مسلم کتاب الصوم باب فضل الصيام