خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 284

ޏ اور اس میں برکت حاصل کریں۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے لئے دعائیں کرو۔اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو۔تم لوگوں نے عہد کیا ہے کہ تم خدا کے نام کو پھیلاؤ گے۔مگر اس کے رستہ میں بعض روکیں ہیں اور افسوس ہے کہ ان میں سے بعض خود تمہاری پیدا کردہ ہیں۔مثلاً آپس کا لڑائی جھگڑا بھی بہت بڑی روک ہے۔آپس کے لڑائی جھگڑے کو لیلتہ القدر سے ایک تعلق ہے اور وہ یہ کہ اس کی وجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلتہ القدر کا وقت بھول گیا۔چنانچہ آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم باہر تشریف لائے۔اور آپ نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں جھگڑ رہے تھے۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے لیلتہ القدر کے وقت کے متعلق علم دیا تھا۔مگر تمہارا جھگڑا دیکھ کر میں بھول گیا۔۵۔پس لیلتہ القدر کے علم سے جو فائدہ امت محمدیہ کو ہونا تھا اس سے تمام امت دو شخصوں کے جھگڑے کے باعث محروم ہو گئی یہ وہ رات ہے کہ اس میں جو نیک دعا کی جائے قبول ہوتی ہے۔لیکن خدا سے کچھ لینے کے لئے قربانی کی ضرورت ہے اور وہ قوم کہاں قربانی کر سکتی ہے جو ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہو۔تم میں سے بعض لڑتے ہیں اور اس لڑائی سے جماعتی اور ملی فوائد کو ذاتی فوائد یا جھگڑے پر قربان کر دیتے ہیں مگر ایسے لوگوں کو معلوم نہیں کہ ذاتی عزت بھی جماعت ہی کی عزت ہوتی ہے اور اگر جماعت کی عزت نہ رہے تو اس کے افراد بھی ذلیل ہو جائیں۔ایک شخص نے کہا کہ اب سکول کی حالت بہت خراب ہے۔لڑکے کم ہو رہے ہیں لیکن پتہ لگایا گیا۔تو معلوم ہوا جس جماعت کے متعلق یہ کہا گیا تھا اس میں پہلے کی نسبت زیادہ لڑکے تھے اور نتیجہ بھی اچھا تھا۔پھر بات کیا تھی جو اس شخص نے یہ کہا۔یہ کہ اس کی قاضی عبداللہ صاحب سے ناراضگی تھی اس وجہ سے اس نے ایک قومی کام کو بدنام کرنے سے دریغ نہ کیا۔ہم تو دیکھتے ہیں حیوان بھی اپنے عیب کو چھپاتے ہیں۔بلی اپنے پاخانہ کو چھپاتی ہے۔پھر وہ لوگ جو اپنے کسی بھائی کا عیب نہیں چھپاتے وہ بلیوں سے بد تر ہوئے یا نہیں۔اگر کسی میں عیب ہو تو اس کو چھپاؤ۔اور دور کرو۔نہ یہ کہ اس کو شہرت دو۔اگر تم ایسا کرو گے تو اس حال میں کس طرح خدا کے انعام حاصل کر سکتے ہو۔اگر جماعت بدنام ہوگی تو لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کریں گے وہ کہیں گے ہمیں کیا ضرورت ہے کہ بدنام جماعت میں داخل ہونے کے لئے گھر بار چھوڑیں عزیزوں رشتہ داروں سے علیحدہ ہوں لوگوں سے تکلیفیں اٹھائیں گالیاں سنیں۔تم یہ نہ سمجھو کہ کسی شخص کو بدنام کرنا ای شخص کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ اس کا اثر ساری جماعت پر پڑتا ہے۔قاضی عبداللہ ہوں یا ماسٹر محمد الدین، مولوی شیر علی ہوں یا مولوی سید سرور شاہ حافظ روشن علی یا میاں بشیر احمد یا میر محمد اسحاق اگر یہ لوگ بدنام ہونگے۔تو یاد رکھو۔ساری جماعت بدنام ہوگی۔پس تمہاری ترقی میں سب سے