خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 282

۲۸۲ بڑا ہتھیار ہے پس جب انسان کھانا کھانے کے لئے اٹھتا ہے تو تجد بھی پڑھتا ہے جو اشد وطا" ہے اور نفس کی اصلاح کے لئے ہتھیار ہے۔اور یہ ایک مہینہ کی مشق سارے سال میں کام آتی ہے۔جیسا کہ پہاڑ پر ایک دو مہینہ رہنا باقی سال کے لئے مفید ہوتا ہے۔یا کمزوری صحت کو دور کر دیتا ہے اور اس ایک مہینہ میں جسم کو بہت فائدہ پہنچ جاتا ہے۔اسی طرح رمضان میں ایک مہینہ تہجد پڑھنا مفید ہو جاتا ہے۔۹۔پھر رمضان کے دنوں میں دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں۔ایک تو تہجد کے ذریعہ عبادت زیادہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔اور تسبیح اور تجد زیادہ کی جاتی ہے علاوہ اس کے زیادہ دعاؤں کا موقع ہا ہے۔اور رمضان کو قبولیت دعا سے خاص تعلق بھی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ رمضان کے ذکر کے ساتھ فرماتا ہے واذا سالک عبادی عنی فانی قریب اجيب دعوة الداع اذا دعان (البقرہ ۱۸۷) میرے بندے جب میرے بارے میں سوال کریں تو ان سے کہو کہ میں قریب ہوں۔اور پکارنے والے کی دعا سنتا ہوں۔چونکہ ان دنوں تمام عالم اسلامی دعاؤں میں مصروف ہوتا ہے۔اس لئے دعائیں زیادہ سنی جاتی ہیں۔کیونکہ قاعدہ ہے کہ جس کام کو زیادہ لوگ مل کر کریں وہ عمدگی اور اچھی طرح ہو جاتا ہے۔پس ایک تو روزوں میں عبادت زیادہ کی جاتی ہے۔دوسرے دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔اور اس سے روحانیت کے سلسلہ میں ترقی ہوتی ہے۔۔دسواں تعلق روزوں اور تقویٰ میں یہ ہے کہ گناہ کی عادت چھوٹ جاتی ہے۔جو انسان چوری کرتا ہے۔اور اس کو اس کی عادت ہے یا جھوٹ بولنے کی عادت ہے جب وہ رمضان کے مہینہ میں خدا کا حکم سمجھ کو روزے رکھتا ہے تو اس کو برے کام کرنے سے شرم آتی ہے۔کیونکہ خیال کرتا ہے کہ اگر ان سے نہ بچا تو روزہ رکھ کر خواہ مخواہ بھوکا مرنا ہو گا۔کچھ فائدہ نہ ہوگا۔اس طرح وہ جھوٹ اور چوری سے بچتا ہے اور اس ایک مہینہ کی مشق سے بدی سے بچنے میں مدد مل جاتی ہے۔پھر جب روزہ دار خدا تعالٰی کے لئے اپنے رزق کو چھوڑتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا متکفل ہو جاتا ہے۔اور یہ اس کا فرض ہے۔خدا تعالیٰ کے لئے فرض کا لفظ تو نہیں بولا جا سکتا۔مگر فرض اس لئے کہتے ہیں کہ خود اس نے اپنے ذمہ لیا ہے۔کہ وہ اس کو رزق دیتا ہے۔اور اس سے بہتر دیتا ہے جو کہ انسان اس کی خاطر چھوڑتا ہے۔کیونکہ جیسا کہ آتا ہے۔وانا حبيتم بتحية فحيوا باحسن منها اوردوها (النساء ۸۷) انسان جب خدا کے لئے جسمانی رزق ترک کرتا ہے۔تو خدا تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے روحانی رزق مہیا فرماتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ روحانیت میں ترقی کرنے اور خدا سے شرف مکالمہ پانے کے لئے روزے ضروری ہوئے ہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول وحی سے پہلے روزے رکھے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام