خطبات محمود (جلد 7) — Page 279
۲۷۹ ہوتا۔ان کو غریبوں کے احساسات کا پتہ نہیں ہوتا۔غریبوں کو رات رات جگاتے ہیں۔مگر ان کو اس تکلیف کا احساس نہیں ہوتا۔ان کو کوئی خبر نہیں ہوتی کہ ایسے لوگ بھی ہیں۔جن کو کھانا نہیں ملتا مگر جب امرا کو رمضان میں کہا جاتا ہے کہ رات کو جاگیں اور ان کو سحری کے لئے جاگنا پڑتا ہے اور ان کے آرام میں خلل آتا ہے تب ان کو دوسرے کے جاگنے کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔وہ کھانا کھاتے ہیں۔مگر ان کے کھانے کو دو وقت میں مقید کر دیا جاتا ہے۔کہ صبح سحری کے وقت اور بعد افطار وہ اس وقت کو اس خیال سے کاٹتے ہیں کہ کھانے کے لئے تیار چیزیں ملیں گے۔اور وہ صبح کو پراٹھے کھاتے ہیں۔لیکن غریب جس کو کوئی توقع نہیں ہوتی کہ آج اس کو ملے گا بھی یا نہیں اس کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔کیونکہ امیر سمجھتا ہے کہ ہم گھڑیاں گنتے ہیں کہ کب موذن اذان کے اور ہم کھانا کھائیں۔لیکن غریب کی حالت یہ ہے کہ اس کو پتہ ہی نہیں ہو تا کہ ابھی کتنی راتیں اور کتنے دن اسی طرح گزارنے ہیں پھر اگر کوئی بیمار ہو تو روزہ نہیں رکھتا۔مگر غریب کو اپنی بیماری یا بچوں کی بیماری میں جہاں فاقہ کشی کی تکلیف ہوتی ہے وہاں دوائی کے لئے بھی پاس کچھ نہیں ہوتا۔اگر غریب بیمار ہو اور ڈاکٹر اپنے فرض کے مطابق اس کو کہے کہ دودھ پیو۔تو وہ شرمندہ ہو کر گردن جھکا لے گا کہ مجھے تو روٹی بھی نہیں ملتی دودھ کہاں سے لاؤں۔ڈاکٹر اس کو چاول بتائے گا مگر اس کے گھر تو آٹا بھی نہیں ہو گا۔پھر امیر کا روزہ اسی کا روزہ ہے مگر غریب کی بھوک میں اس کے بال بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔امیر خود نہیں کھاتا۔لیکن اس کے بال بچے کھاتے پیتے ہیں۔اس لئے امیر کی تکلیف اس کے اپنے جسم تک محدود ہے مگر غریب کی تکلیف اس کے جسم سے گزر کر اس کی روح تک اثر کرتی ہے۔کیونکہ وہ اپنے ساتھ اپنے ننھے بچوں کو بھی بھوکا دیکھ کر ایک اور تکلیف اٹھاتا ہے پھر امیر کے لئے بھوک کے مٹانے کا ہر لمحہ قریب آرہا ہوتا ہے۔لیکن غریب کے لئے کھانا ملنے کا وقت قریب آنے کی امید نہیں ہوتی۔لیکن جب امیر خدا کے لئے روزے رکھتا ہے تو اسے غریبوں کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور سخاوت کرتا ہے اور یہ سخاوت اس کو تقوی کی طرف لے جاتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ روزوں میں بہت زیادہ سخاوت کرتے اور غرباء و مساکین کی خبر گیری فرماتے تھے۔۲۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ رمضان کے علاوہ سخاوت نہ کرتے تھے۔آپ ہمیشہ سخاوت کرتے تھے مگر رمضان کے دنوں میں آپ کو اور زیادہ احساس غرباء کے حال کا ہو جاتا تھا۔تو روزہ سے ہر شخص میں اس کی حالت کے مطابق غرباء سے ہمدردی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔کیونکہ انسان سمجھتا ہے کہ جب میں ایک مہینہ میں اس قدر تکلیف اٹھاتا ہوں اور مجھ کو اس قدر تکلیف ہوتی ہے تو جن لوگوں پر بارہ مہینہ یہی کیفیت گذرتی ہے ان پر کیا حالت گذرتی ہوگی۔اور ان کی تکلیف کا کیا اندازہ ہو گا۔پس رمضان میں بخیل