خطبات محمود (جلد 7) — Page 278
سے لوگ گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں اچھے کھانے پینے کے لئے۔اور زیادہ کھانے کے لئے روپیہ نہیں ہوتا۔اس لئے ناجائز مال پر قبضہ جماتے ہیں۔کئی لوگ ہر وقت کھاتے رہتے ہیں۔یا انگریزوں کا ملک سرد ہے اور وہ لوگ کام کرتے ہیں اس لئے پانچ پانچ دفعہ کھاتے ہیں۔بعض لوگ کھانے کے یہاں تک عادی ہوتے ہیں کے کھانے کی چیزیں ان کے ڈیسک پر پڑی رہتی ہیں۔کام کرتے جاتے ہیں اور کھاتے جاتے ہیں۔شہروں کے لوگ زیادہ کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔پھیری والے پھرتے رہتے ہیں۔کوئی مٹھائی بیچتا ہے۔کوئی برف کوئی مونگ پھلی وغیرہ جب کوئی پھیری والا آتا ہے فوراً بچوں کے بہانہ سے کچھ خرید لیتے ہیں۔خود بھی کھاتے ہیں ان کو بھی کھلاتے ہیں اس طرح ان کو کھانے کی عادت پڑی ہوتی ہے۔جس کے لئے روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اور وہ ناجائز طریق سے حاصل کرنے میں دریغ نہیں کرتے۔لیکن روزے میں کھانے پینے کی عادت چھوڑنا پڑتی ہے۔اور جب جائز خواہش کو دباتے ہیں تو غیر طبعی اور ناجائز خواہشیں مٹ جاتی ہیں۔چوتھی بات روزے اور تقویٰ میں تعلق کی ہے اور اس پر میں نے پچھلے سال بھی زور دیا تھا کہ بعض باتیں ذاتی ہوتی ہیں۔اور بعض باہر سے آتی ہیں۔بعض قسم کی نیکیوں کا علم احساسات اور علم کے ذریعہ ہوتا ہے۔اور جب تک علم نہ ہو انسان ان نیکیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔امرا کا طبقہ عام لوگوں کی حالت سے ناواقف ہوتا ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے نائی کو ۱۵۰۰ اشرفی دی اس نے پہلے چونکہ اتنی بڑی رقم دیکھی نہ تھی اس لئے ان کو لئے لئے پھرا کرتا تھا۔اس کی آمد و رفت چونکہ دوسرے امراء کے ہاں بھی تھی امراء نے اس سے تمسخر شروع کیا جب وہ کسی امیر کے ہاں جاتا تو وہ پوچھتے میاں شہر کی کیا حالت ہے۔وہ کہتا بڑی اچھی حالت ہے سارا شہر امن و خوشی میں ہے کوئی ہی ایسا بد قسمت ہوگا جس کے پاس ۱۵۰۰ اشرفی نہ ہو۔زیادہ کی تو کوئی حد نہیں۔ایک دن ایک امیر نے اس کی وہ تھیلی نہی کے طور پر پوشیدہ رکھ دی۔اس نے تلاش کی مگر نہ ملی جب وہ تزئین کرنے کے لئے پھر اس امیر کے ہاں گیا تو اس نے پوچھا بتاؤ شہر کا کیا حال ہے اس نے کہا شہر بھوکا مر رہا ہے۔امیر نے کہا یہ لو اپنی تھیلی شہر بھوکا نہ مرے۔بات یہ ہے کہ جسے کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو اسے اس کا احساس نہیں ہوتا۔امرا چونکہ ان حالات میں سے نہیں گذرتے جن سے غربا کو گذرنا پڑتا ہے اس لئے انہیں ان کی تکالیف کا احساس نہیں ہوتا۔مثلا امیروں کو بھوک کی شکایت نہیں ہوتی۔ان کو اگر شکایت ہوتی ہے تو بد ہضمی کی ہوتی ہے۔اور ان کو معدہ کی طاقت کی دوائیں استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ اگر نوکر سے ایک منٹ کھانا لانے میں دیر ہو تو خفا ہوتے ہیں۔اور اگر کہا جائے کہ وہ روٹی کھا رہا ہے تو کہتے ہیں کہ کیا وہ مرنے لگا تھا۔پھر کھا لیتا۔وہ سارا سارا دن کام کراتے ہیں۔اور روٹی کے لئے کہتے ہیں پھر کھا لینا۔کیونکہ ان کو بھوک کا احساس نہیں